Showing posts with label مولانا ظفر علی. Show all posts
Showing posts with label مولانا ظفر علی. Show all posts

Thursday, 4 June 2026

چائے کا دور چلے دور چلے دور چلے

 چائے کا ارغوانی دور


چائے کا دور چلے، دور چلے، دور چلے

جو چلا ہے تو ابھی اور چلے اور چلے

چائے کا دور چلے، دور چلے، دور چلے


نہ ملے چائے، تو خوننابِ جگر کافی ہے

بزم میں دور چلا ہے، تو ابھی اور چلے

Friday, 10 December 2021

اپنی معراج کو پہنچا ہے بشر آج کی رات

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


عشق مہمان ہوا حسن کے گھر آج کی رات

جذبۂ دل ہے با آغوش اثر آج کی رات

بختِ بیدار نے دی دولتِ سرمد کی نوید

کیوں نہ آنکھوں میں کٹے تابہ سحر آج کی رات

اپنے اللہ سے ملنے کے لیے جاتا ہے

اپنے اللہ کا منظورِ نظر آج کی رات

Saturday, 14 August 2021

اے کربلا کی خاک اس احسان کو نہ بھول

 عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ


کرتی رہے گی پیش شہادت حسین کی 

​

اے کربلا کی خاک اس احسان کو نہ بھول​

تڑپی ہے تجھ پہ لاشۂ جگر گوشۂ بتول​

اسلام کے لہو سے تیری پیاس بُجھ گئی​

سیراب کر گیا تجھے خونِ رگِ رسول ​

Sunday, 1 January 2017

پیغام اتحاد دئیے جا رہا ہوں میں

پیغامِ اتحاد دئیے جا رہا ہوں میں
کوشش مصالحت کی کئیے جا رہا ہوں میں 
ہے تار تار پیراہنِ عزتِ وطن 
یہ جامۂ دریدہ سئیے جا رہا ہوں میں 
خُم خانۂ الست کی جس میں ہیں مستیاں 
وہ بادہ دو شینہ پئیے جا رہا ہوں میں 

دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہی تو ہو

دل جس سے زندہ ہے وہ تمنا تمہیﷺ تو ہو
ہم جس میں بس رہے ہیں وہ دنیا تمہی تو ہو
پھوٹا جو سینۂ شبِ تارِ الست سے
اس نورِ اولیں کا اجالا تمہی تو ہو
سب کچھ تمہارے واسطے پیدا کیا گیا
سب غایتوں کی غایتِ اولیٰ تمہی تو ہو

محمد مصطفیٰ گنج سعادت کے امیں تم ہو

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

محمدﷺ مصطفیٰ گنجِ سعادت کے امیں تم ہو
شفیع المذنبیںﷺ ہو، رحمتہ للعالمیںﷺ تم ہو
ہوئی تکمیل دیں تم سے کہ ختم المرسلیں تم ہو
رسالت ہے اگر انگشتری، اس کے نگیں تم ہو
نہ ہوتے تم تو عرش و فرش کا نقشہ نہ جم سکتا
یہ دنیا اعتباری تھی، حقیقت آفریں تم ہو

Monday, 26 December 2016

مشرق میں غریبوں کی نہیں کوئی رہی گور

مشرق میں غریبوں کی نہیں کوئی رہی گور 
سر پکڑے ہوئے بیٹھے ہیں مغرب کے کفن چور 
لکھتا ہوں فلسطیں کے شہیدوں کی کہانی 
آلودہ لہو سے ہیں میری انگلیوں کے پور 
یہ خون ہے وہی جسکی جھلکتی ہوئی سرخی 
ہے مایۂ رنگینئ افسانۂ بالفور 

Sunday, 25 December 2016

کام انگریز کو دنیا سے مجھے دین سے ہے

کام انگریز کو دنیا سے مجھے دِین سے ہے 
اس کے قانون کی ٹکر میرے آئین سے ہے 
خونِ اسلام سے گل رنگ ہوا روضۂ اقدس 
خبر اڑتی ہوئی آئی یہ فلسطین سے ہے 
سینۂ توحید کے بیٹے کا مشبک ہے اگر 
تو وہ تثلیث کے فرزند کی سنگیں سے ہے 

دیرینہ ہے فرنگ کی اسلام دشمنی

دیرینہ ہے فرنگ کی اسلام دشمنی 
ہے پہلے دن کی اس سے ہماری کتاچھنی 
دنیا کے سب یہود ہیں انگریز کے حلیف 
دونوں کے ساتھ جنگ مسلمان کی ٹھنی
تہذیبِ نو کی جلوہ گری سے خدا بچائے 
پھیلی ہوئی ہے جس کی فلسطیں میں روشنی 

ہندوؤں سے ہے نہ سکھوں سے نہ سرکار سے ہے

ہندوؤں سے ہے نہ سکھوں سے نہ سرکار سے ہے
گلہ رسوائیِ اسلام کا احرار سے ہے 
حرف پنجاب میں ناموسِ نبیﷺ پر آیا 
قائم اس ظلم کی بنیاد ان اشرار سے ہے 
پانچ ککوں کا ہے پابند شریعت کا امیر
اس میں طاقت ہی تو کرپان کی جھنکار سے ہے 

Saturday, 24 December 2016

وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

وہ شمع اجالا جس نے کیا چالیس برس تک غاروں میں 
اک روز جھلکنے والی تھی سب دنیا کے درباروں میں 
رحمت کی گھٹائیں پھیل گئیں، افلاک کے گنبد گنبد پر 
وحدت کی تجلی کوند گئی، آفاق کے سینا زاروں میں 
گر ارض و سما کی محفل میں لولاک لما کا شور نہ ہو
یہ رنگ نہ ہو گلزاروں میں یہ نور نہ ہو سیاروں میں

پہنچتا ہے ہر اک مے کش کے آگے دور جام اس کا

حمد: خمستان ازل کا ساقی

پہنچتا ہے ہر اک میکش کے آگے دورِ جام اس کا
کسی کو تشنہ لب رکھتا نہیں ہے لطفِ عام اس کا 
گواہی دے رہی ہے اس کی یکتائی پہ ذات اس کی 
دوئی کے نقش سب جھوٹے، ہے سچا ایک نام اس کا 
ہر اک ذرہ فضا کا داستاں اس کی سناتا ہے 
ہر اک جھونکا ہوا کا آ کے دیتا ہے پیام اس کا 

بنائے اپنی حکمت سے زمین و آسماں تو نے

حمد باری تعالیٰ

بنائے اپنی حکمت سے زمین و آسماں تُو نے
دکھائے اپنی قدرت کے ہمیں کیا کیا نشاں تو نے
تِری صنعت کے سانچے میں ڈھلا ہے پیکرِ ہستی
سمویا اپنے ہاتھوں سے مزاجِ جسم وجاں تو نے 
نہیں موقوف خلاقی تِری اس ایک دنیا پر 
کیے ہیں ایسے ایسے سینکڑوں پیدا جہاں تو نے

تیری محفل میں دو عالم کو ہے سیری ساقی

تیری محفل میں دو عالم کو ہے سیری ساقی
تشنہ کامی میری توہین ہے تیری ساقی 
محتسب کا اسے ڈر ہو جسے وہ دیکھ بھی لے 
خم کا منہ کھول کہ ہے رات اندھیری ساقی 
مے پلانی ہے تو لا خم کدۂ بطحا سے 
ورنہ تسکین نہ ہو گی کبھی میری ساقی 

جب نبی کی نعت میں مصروف ہوتا ہے قلم

عارفانہ کلام نعتیہ کلام

جب نبیﷺ کی نعت میں مصروف ہوتا ہے قلم 
کیسے کیسے خوش نما موتی پروتا ہے قلم 
مغفرت کی التجا کرتا ہے کاغذ کے سپرد
معصیت کے اگلے پچھلے داغ دھوتا ہے قلم 
کم نہیں خارِ مغلیان عرب سے اس کی نوک 
جس کو یورپ کے کفِ پا میں چبھوتا ہے قلم 

درخشاں مغرب و مشرق میں ہے سارا نظام اپنا

درخشاں مغرب و مشرق میں ہے سارا نظام اپنا
ادھر مہرِ منیر اپنا،۔۔۔ ادھر ماہِ تمام اپنا 
شراب خانہ ساز آنی ہے بطحا کے خمستاں سے 
سیہ مستو! مبارک ہو کہ گردش میں ہے جام اپنا 
رسول اللہﷺ کی عزت پہ ہم مٹنے والے ہیں 
زمیں سے عرشِ اعظم تک اچھلنے کو ہے نام اپنا