چائے کا ارغوانی دور
چائے کا دور چلے، دور چلے، دور چلے
جو چلا ہے تو ابھی اور چلے اور چلے
چائے کا دور چلے، دور چلے، دور چلے
نہ ملے چائے، تو خوننابِ جگر کافی ہے
بزم میں دور چلا ہے، تو ابھی اور چلے
چائے کا ارغوانی دور
چائے کا دور چلے، دور چلے، دور چلے
جو چلا ہے تو ابھی اور چلے اور چلے
چائے کا دور چلے، دور چلے، دور چلے
نہ ملے چائے، تو خوننابِ جگر کافی ہے
بزم میں دور چلا ہے، تو ابھی اور چلے
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
عشق مہمان ہوا حسن کے گھر آج کی رات
جذبۂ دل ہے با آغوش اثر آج کی رات
بختِ بیدار نے دی دولتِ سرمد کی نوید
کیوں نہ آنکھوں میں کٹے تابہ سحر آج کی رات
اپنے اللہ سے ملنے کے لیے جاتا ہے
اپنے اللہ کا منظورِ نظر آج کی رات
عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
کرتی رہے گی پیش شہادت حسین کی
اے کربلا کی خاک اس احسان کو نہ بھول
تڑپی ہے تجھ پہ لاشۂ جگر گوشۂ بتول
اسلام کے لہو سے تیری پیاس بُجھ گئی
سیراب کر گیا تجھے خونِ رگِ رسول