پیغامِ اتحاد دئیے جا رہا ہوں میں
کوشش مصالحت کی کئیے جا رہا ہوں میں
ہے تار تار پیراہنِ عزتِ وطن
یہ جامۂ دریدہ سئیے جا رہا ہوں میں
خُم خانۂ الست کی جس میں ہیں مستیاں
پھیلا کے انجمن میں چراغ حرم کا نور
گل کرنے باقی سارے دِیۓ جا رہا ہوں میں
بدتر ہے موت سے بھی غلامی کی زندگی
پھر کیوں غلام ہو کے جئیے جا رہا ہوں میں
ہے نقد مغفرت کفِ پروردگار میں
جنسِ گُنہ بغل میں لیے جا رہا ہوں میں
مولانا ظفر علی خان
No comments:
Post a Comment