Sunday, 1 January 2017

کل گریزاں جو وہ تجدید ملاقات سے تھا

کل گریزاں جو وہ تجدیدِ ملاقات سے تھا
رنج اس شخص کو جانے مِری کس بات سے تھا
اب اگر یاد بھی کرتا ہوں تو کانپ اٹھتا ہوں
کس قدر ربط مجھے اس کی عنایات سے تھا
خود مجھے حوصلۂ عرضِ تمنا نہ ہوا
وہ تو آگاہ وگرنہ مِرے جذبات سے تھا
تم ہی کچھ شکوہ کناں گردشِ دوراں سے نہ تھے
کچھ گِلہ مجھ کو بھی بے مہرئ حالات سے تھا
ناشناسا کہ طرح آج جو ملتا ہے مجھے
اک تعلق سا کبھی اس کو مِری ذات سے تھا
عشق میں خوار و زبوں تم ہی نہیں ہو ناصرؔ
میر صاحب کا تعلق بھی تو سادات سے تھا

ناصر زیدی

No comments:

Post a Comment