کیوں کہوں کوئی قد آور نہیں آیا اب تک
ہاں مِرے قد کے برابر نہیں آیا اب تک
ایک مدت سے ہوں میں سینہ سپر میداں میں
حملہ آور کوئی بڑھ کر نہیں آیا اب تک
یہ تو دریا ہیں جو آپے سے گزر جاتے ہیں
جوش میں ورنہ سمندر نہیں آیا اب تک
کیوں کہوں کوئی قد آور نہیں آیا اب تک
ہاں مِرے قد کے برابر نہیں آیا اب تک
ایک مدت سے ہوں میں سینہ سپر میداں میں
حملہ آور کوئی بڑھ کر نہیں آیا اب تک
یہ تو دریا ہیں جو آپے سے گزر جاتے ہیں
جوش میں ورنہ سمندر نہیں آیا اب تک
اک بار اپنا ظرفِ نظر دیکھ لیجئے
پھر چاہے جس کے عیب و ہنر دیکھ لیجئے
کیا جانے کس مقام پہ کس شے کی ہو طلب
چلنے سے پہلے زادِ سفر دیکھ لیجئے
ہو جائے گا خود آپ کو احساس بے رخی
گر آپ میرا زخمِ جگر دیکھ لیجئے
حسرتیں آ آ کے جمع ہو رہی ہیں دل کے پاس
کارواں گویا پہنچنے والا ہے منزل کے پاس
بیچ میں جب تک تھیں موجیں ان میں شورش تھی بہت
انتشار ان میں ہوا جب آ گئیں ساحل کے پاس
نذرِ قاتل جان جب کر دی تو باقی کیا رہا
اب تڑپنے کے علاوہ ہے ہی کیا بسمل کے پاس
سانس لینا بھی بار ہوتا ہے
جب تِرا انتظار ہوتا ہے
آتا ہے جب بہار کا موسم
جب جنوں اُستوار ہوتا ہے
ذکر کیا دامن و گریباں کا
پیرہن تار تار ہوتا ہے
جب کبھی مدِ مقابل وہ رُخِ زیبا ہوا
آئینہ بھی رہ گیا حیرت سے منہ تکتا ہوا
فصلِ گُل میں ہے شکست و ریخت کا آئینہ دار
ایک اک تنکا نشیمن کا مِرے بکھرا ہوا
محوِ حیرت ہوں خراشِ دستِ غم کو دیکھ کر
زخم چہرے پر ہیں یا ہے آئینہ ٹوٹا ہوا؟
یوں تجھ سے دور دور رہوں یہ سزا نہ دے
اب اور زندہ رہنے کی مجھ کو دعا نہ دے
اب احتیاط شدتِ گِریہ نہ پوچھئے
ڈرتا ہوں میں وہ سن کے کہیں مسکرا نہ دے
لو میں نے دل کی اس سے لگائی تو ہے مگر
ڈر ہے یہ شمعِ غم کہیں دامن جلا نہ دے