Showing posts with label عاجز ماتوی. Show all posts
Showing posts with label عاجز ماتوی. Show all posts

Wednesday, 2 February 2022

کیوں کہوں کوئی قد آور نہیں آیا اب تک

 کیوں کہوں کوئی قد آور نہیں آیا اب تک

ہاں مِرے قد کے برابر نہیں آیا اب تک

ایک مدت سے ہوں میں سینہ سپر میداں میں

حملہ آور کوئی بڑھ کر نہیں آیا اب تک

یہ تو دریا ہیں جو آپے سے گزر جاتے ہیں

جوش میں ورنہ سمندر نہیں آیا اب تک

Friday, 13 August 2021

اک بار اپنا ظرف نظر دیکھ لیجئے

 اک بار اپنا ظرفِ نظر دیکھ لیجئے

پھر چاہے جس کے عیب و ہنر دیکھ لیجئے

کیا جانے کس مقام پہ کس شے کی ہو طلب

چلنے سے پہلے زادِ سفر دیکھ لیجئے

ہو جائے گا خود آپ کو احساس بے رخی

گر آپ میرا زخمِ جگر دیکھ لیجئے

Thursday, 5 August 2021

حسرتیں آ آ کے جمع ہو رہی ہیں دل کے پاس

 حسرتیں آ آ کے جمع ہو رہی ہیں دل کے پاس 

کارواں گویا پہنچنے والا ہے منزل کے پاس 

بیچ میں جب تک تھیں موجیں ان میں شورش تھی بہت 

انتشار ان میں ہوا جب آ گئیں ساحل کے پاس

نذرِ قاتل جان جب کر دی تو باقی کیا رہا 

اب تڑپنے کے علاوہ ہے ہی کیا بسمل کے پاس 

سانس لینا بھی بار ہوتا ہے

 سانس لینا بھی بار ہوتا ہے

جب تِرا انتظار ہوتا ہے

آتا ہے جب بہار کا موسم

جب جنوں اُستوار ہوتا ہے

ذکر کیا دامن و گریباں کا

پیرہن تار تار ہوتا ہے

Friday, 9 July 2021

جب کبھی مد مقابل وہ رخ زیبا ہوا

 جب کبھی مدِ مقابل وہ رُخِ زیبا ہوا

آئینہ بھی رہ گیا حیرت سے منہ تکتا ہوا

فصلِ گُل میں ہے شکست و ریخت کا آئینہ دار

ایک اک تنکا نشیمن کا مِرے بکھرا ہوا

محوِ حیرت ہوں خراشِ دستِ غم کو دیکھ کر

زخم چہرے پر ہیں یا ہے آئینہ ٹوٹا ہوا؟

Monday, 10 May 2021

یوں تجھ سے دور دور رہوں یہ سزا نہ دے

 یوں تجھ سے دور دور رہوں یہ سزا نہ دے

اب اور زندہ رہنے کی مجھ کو دعا نہ دے

اب احتیاط شدتِ گِریہ نہ پوچھئے

ڈرتا ہوں میں وہ سن کے کہیں مسکرا نہ دے

لو میں نے دل کی اس سے لگائی تو ہے مگر

ڈر ہے یہ شمعِ غم کہیں دامن جلا نہ دے