اک بار اپنا ظرفِ نظر دیکھ لیجئے
پھر چاہے جس کے عیب و ہنر دیکھ لیجئے
کیا جانے کس مقام پہ کس شے کی ہو طلب
چلنے سے پہلے زادِ سفر دیکھ لیجئے
ہو جائے گا خود آپ کو احساس بے رخی
گر آپ میرا زخمِ جگر دیکھ لیجئے
سب کی طرف ہے آپ کی چشمِ نوازشات
کاش، ایک بار آپ ادھر دیکھ لیجئے
تارے میں توڑ لاؤں گا آکاش سے مگر
شفقت سے آپ بازو و پر دیکھ لیجئے
جمہوریت کا درس اگر چاہتے ہیں آپ
کوئی بھی سایہ دار شجر دیکھ لیجئے
عاجز ماتوی
No comments:
Post a Comment