Showing posts with label مختار صدیقی. Show all posts
Showing posts with label مختار صدیقی. Show all posts

Saturday, 4 March 2023

آخر دل کی پرانی لگن کر کے ہی رہے گی فقیر ہمیں

 آخر دل کی پرانی لگن کر کے ہی رہے گی فقیر ہمیں

ہر رت آتے جاتے پائے ایک ہی شے کا اسیر ہمیں

دھوم مچائے بہار کبھی اور پات ہرے کبھی پیلے ہوں

ہر نیرنگیٔ قدرت دیکھے یکساں ہی دلگیر ہمیں

کیا کیا پکاریں سسکتی دیکھیں لفظوں کے زندانوں میں

چپ ہی کی تلقین کرے ہے غیرت مند ضمیر ہمیں

Saturday, 29 August 2020

دھیان کی موج کو پھر آئنہ سیما کر لیں

دھیان کی موج کو پھر آئینہ سیما کر لیں
کچھ تجلی کی حضوری کا بھی یارا کر لیں
آج کا دن بھی یوں ہی بیت گیا شام ہوئی
اور اک رات کا کٹنا بھی گوارا کر لیں
جن خیالوں کے الٹ پھیر میں الجھیں سانسیں
ان میں کچھ اور بھی سانسوں کا اضافہ کر لیں

کی شب حشر مری شام جوانی تم نے

کی شبِ حشر مِری شام جوانی تم نے
چھیڑی کس دور کی کس وقت کہانی تم نے
معنی و لفظ میں جو ربط ہے میں جان گیا
کھولے اس طرح سے اسرارِ معانی تم نے
میری آنکھوں ہی میں تھے ان کہے پہلو اسکے
وہ جو اک بات سنی میری زبانی تم نے

نور سحر کہاں ہے اگر شام غم گئی

نورِ سحر کہاں ہے، اگر شامِ غم گئی
کب التفات تھا، کہ جو خُوئے ستم گئی
پھیرا بہار کا تو برس دو برس میں ہے
یہ چال ہے خزاں کی جو رک رک کے تھم گئی
شاید کوئی اسیر ابھی تک قفس میں ہے
پھر موجِ گل چمن سے جو باچشمِ نم گئی

اناؤنسر؛ سرخ بتی نے اشارے سے کہا ہے، بولو

اناؤنسر

سرخ بتی نے اشارے سے کہا ہے، بولو
کھوج نظروں کا مِٹا، بات کے بندھن ٹوٹے
میرے الفاظ کو لہروں کا کوئی پیمانہ
چِین لے جائے گا، دوری کے بہانے جھوٹے
منہ سے جو نکلے، اسی بات سے ناطہ چھوٹے
دل میں باقی رہے موہوم سا احساسِ زیاں

شوخ تھے رنگ ہر اک دور میں افسانوں کے

شوخ تھے رنگ ہر اک دور میں افسانوں کے
دل دھڑکتے ہی رہے آس میں انسانوں کے
علم نے خیر نہ چاہی کبھی انسانوں کی
نقش ملتے رہے کعبے میں صنم خانوں کے
زندگی والہ و شیدا رہی فرزانوں کی
ہم روشن ہوئے ہر دور میں دیوانوں کے

Tuesday, 25 October 2016

بستیاں کیسے نہ ممنون ہوں دیوانوں کی

بستیاں کیسے نہ ممنون ہوں دیوانوں کی
وسعتیں ان میں وہی لائے ہیں ویرانوں کی
کل گنے جائیں گے زمرے میں ستم رانوں کے
خیر مانگیں گے اگر آج ستم رانوں کی
خواب باطل بھی تو ہوتے ہیں تن آسمانوں کے
سعئ مشکور بھی ہوتی ہے گراں جانوں کی

پھر بہار آئی ہے پھر جوش میں سودا ہو گا

پھر بہار آئی ہے پھر جوش میں سودا ہو گا
زخمِ دیرینہ سے پھر خون ہی ٹپکا ہو گا
بِیتی باتوں کے وہ ناسُور ہرے پھر ہوں گے
بات نکلے گی تو پھر بات کو رکھنا ہو گا
یورشیں کر کے اُمڈ آئیں گی سُونی شامیں
لاکھ بھٹکیں کسی عنوان نہ سویرا ہو گا

کیا غم جاں اور کیا غم جاناں سب کے محرم راز ہوئے

کیا غمِ جاں اور کیا غمِ جاناں سب کے محرمِ راز ہوئے
اب مجبورِ نوا بھی نہیں ہیں، اب تو پردۂ ساز ہوئے
خوئے فراق ہی آڑے آئی آخر ہم مجبوروں کے
میل ملاپ پہ قادر جب سے آپ ایسے دم باز ہوئے
لازم ہے درویش کی خاطر پردہ دنیا داری کا
ورنہ ہم تو فقیر ہیں جب سے یار زمانہ ساز ہوئے

رات کے بعد وہ صبح کہاں ہے دن کے بعد وہ شام کہاں

رات کے بعد وہ صبح کہاں ہے دن کے بعد وہ شام کہاں 
جو آشفتہ سری ہے مقدر اس میں قیدِ مقام کہاں
بھیگی رات ہے سونی گھڑیاں اب وہ جلوۂ عام تمام 
بندھن توڑ کے جاؤں لیکن اے دلِ ناکام! کہاں
اب وہ حسرت رسوا بن کر جزوِ حیات ہے برسوں سے 
جس سے وحشت کرتے تھے تم اب وہ خیالِ خام کہاں