Saturday, 4 March 2023

آخر دل کی پرانی لگن کر کے ہی رہے گی فقیر ہمیں

 آخر دل کی پرانی لگن کر کے ہی رہے گی فقیر ہمیں

ہر رت آتے جاتے پائے ایک ہی شے کا اسیر ہمیں

دھوم مچائے بہار کبھی اور پات ہرے کبھی پیلے ہوں

ہر نیرنگیٔ قدرت دیکھے یکساں ہی دلگیر ہمیں

کیا کیا پکاریں سسکتی دیکھیں لفظوں کے زندانوں میں

چپ ہی کی تلقین کرے ہے غیرت مند ضمیر ہمیں

جن کی ہلکی گہری تلخی خون میں رچ رچ جاتی ہے

جزو حیات بنانے پڑے ہیں وہ اشعار میر ہمیں


مختار صدیقی

No comments:

Post a Comment