میں خواب میں تھا اک آواز نے کہا یا ہُو
پھر اس کے بعد ہر اک سمت بس سُنا یا ہو
ہے اک نگاہِ قلندر کا لُطفِ خاص کہ میں
بغیر خرقہ و کشکول کہہ اُٹھا؛ یا ہو
یہ اتفاق نہ تھا باز آمدِ شبِ ہجر
اشارہ تھا کہ ہے پھر دل میں گُونجتا یا ہو
بس اک شعلۂ پراں نظر سے گُزرا اور
رگوں میں خُوں کی جگہ دوڑنے لگا یا ہو
میں دیکھتا تھا فضا میں بِکھرتا اِلا اللہ
میں جانتا تھا یہی لا الہ تھا یا ہو
شہرام سرمدی
No comments:
Post a Comment