عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
اور اِس سے قبل کہ حرفِ یقیں گماں ہو جائے
تِری نظر کی طلب ہے،۔اگر یہاں ہو جائے
یہ وہ کمال نہیں ہے،۔ زوال ہو جس کو
یہ وہ چراغ نہیں ہے کہ جو دھواں ہو جائے
یہ میرا دل ہے، گلستاں بھی اِس میں، صحرا بھی
یہ تیری بارشِ رحمت پہ ہے، جہاں ہو جائے