Showing posts with label ذوالفقار عادل. Show all posts
Showing posts with label ذوالفقار عادل. Show all posts

Thursday, 22 August 2024

اور اس سے قبل کہ حرف یقیں گماں ہو جائے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


اور اِس سے قبل کہ حرفِ یقیں گماں ہو جائے

تِری نظر کی طلب ہے،۔اگر یہاں ہو جائے

یہ وہ کمال نہیں ہے،۔ زوال ہو جس کو

یہ وہ چراغ نہیں ہے کہ جو دھواں ہو جائے

یہ میرا دل ہے، گلستاں بھی اِس میں، صحرا بھی

یہ تیری بارشِ رحمت پہ ہے، جہاں ہو جائے

Friday, 9 August 2024

دنیا کی بنیادیں رکھنے والا شخص

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


دنیا کی بنیادیں رکھنے والا شخص

دور کہیں اک غار میں بیٹھا تنہا شخص

سب تاریخیں اس میں گم ہو جاتی ہیں

دنیا کی تاریخ میں ہے اک ایسا شخص

پہلے کے اور بعد کے سب قانون حذف

آخری خطبہ دینے والا پہلا شخص

Wednesday, 29 March 2023

جانے ہم یہ کن گلیوں میں خاک اڑا کر آ جاتے ہیں

 جانے ہم یہ کن گلیوں میں خاک اڑا کر آ جاتے ہیں 

عشق تو وہ ہے جس میں ناموجود میسر آ جاتے ہیں 

جانے کیا باتیں کرتی ہیں دن بھر آپس میں دیواریں 

دروازے پر قُفل لگا کر ہم تو دفتر آ جاتے ہیں 

کام مکمل کرنے سے بھی شام مکمل کب ہوتی ہے 

ایک پرندہ رہ جاتا ہے، باقی سب گھر آ جاتے ہیں 

Thursday, 14 July 2022

چرچ کی سیڑھیاں وائلن پر کوئی دھن بجاتا ہوا

 چرچ کی سیڑھیاں، وائلن پر کوئی دُھن بجاتا ہوا

دیکھتا ہے مجھے،۔ اِک ستارہ کہیں ٹمٹماتا ہوا

ڈوب جاتا ہوں، پھِر اُڑنے لگتا ہوں، پِھر ڈوب جاتا ہوں میں

اِک پری کو کسی جل پری کی کہانی سناتا ہوا

میں خدا سے تو کہہ سکتا ہوں؛ دیکھ، سُن، پر خلا سے نہیں

اپنے اندر ہی پھر لوٹ جاتا ہوں میں، باہر آتا ہوا

Wednesday, 9 June 2021

کس کو سمجھائیں کہ حضرت سمجھو

 کس کو سمجھائیں کہ حضرت سمجھو

دل کو دنیا کی طرح مت سمجھو

تم مجھے کچھ بھی سمجھ سکتے ہو

کچھ نہیں ہوں تو غنیمت سمجھو

یہ جو دریا کی خموشی ہے اِسے

ڈوب جانے کی اجازت سمجھو

Tuesday, 6 October 2020

پیڑوں سے بات چیت ذرا کر رہے ہیں ہم

 پیڑوں سے بات چیت ذرا کر رہے ہیں ہم

نادیدہ دوستوں کا پتا کر رہے ہیں ہم

دل سے گزر رہا ہے کوئی ماتمی جلوس

اور اس کے راستے کو کھلا کر رہے ہیں ہم

اک ایسے شہر میں ہیں جہاں کچھ نہیں بچا

لیکن اک ایسے شہر میں کیا کر رہے ہیں ہم

Thursday, 18 June 2020

مجھ کو یہ وقت وقت کو میں کھو کے خوش ہوا

مجھ کو یہ وقت، وقت کو میں، کھو کے خوش ہوا
کاٹی نہیں وہ فصل، جسے بو کے خوش ہوا
وہ رنج تھا، کہ رنج نہ کرنا محال تھا
آخر میں ایک شام، بہت رو کے خوش ہوا
صاحب، وہ بُو گئی، نہ وہ نشہ ہوا ہُوا
اپنے تئیں میں جام و سبو دھو کے خوش ہوا

سارا باغ الجھ جاتا ہے ایسی بے ترتیبی سے

سارا باغ الجھ جاتا ہے ایسی بے ترتیبی سے
مجھ میں پھیلنے لگ جاتی ہے خوشبو اپنی مرضی سے
ہر منظر کو مجمع میں سے یوں اٹھ اٹھ کر دیکھتے ہیں
ہو سکتا ہے شہرت پا لیں ہم اپنی دلچسپی سے
ان آنکھوں سے دو اک آنسو ٹپکے ہوں تو یاد نہیں
ہم نے اپنا وقت گزارا ہر ممکن خاموشی سے

Tuesday, 31 January 2017

ہم جانا چاہتے تھے جدھر بھی نہیں گئے

ہم جانا چاہتے تھے جدھر بھی، نہیں گئے
اور انتہا تو یہ ہے کہ گھر بھی نہیں گئے
وہ خواب جانے کیسے خرابے میں گم ہوئے
اس پار بھی نہیں ہیں، اُدھر بھی نہیں گئے
صاحب! تمہیں خبر ہی کہاں تھی کہ ہم بھی ہیں
ویسے تو اب بھی ہیں، کوئی مر بھی نہیں گئے

اسٹیشن پر آتی جاتی گاڑی کی آواز

شجاع آباد

اسٹیشن پر آتی جاتی گاڑی کی آواز
جیسے اگلی پچھلی، ساری، صدیوں کی ہمراز
نامقبول دعاؤں جیسے بڑھتے یکہ بان
اور مسافر آنے والے، جیسے رب کا دھیان
ٹوٹی پھوٹی، اونچی نیچی، ناہموار سڑک
گزرے وقت کی گرد پڑی ہے جس پہ دور تلک

نکلا ہوں شہر خواب سے ایسے عجیب حال میں

نکلا ہوں شہرِ خواب سے، ایسے عجیب حال میں
غرب مِرے جنوب میں، شرق مِرے شمال میں
کوئی کہیں سے آئے اور مجھ سے کہے کہ زندگی
تیری تلاش میں ہے دوست بیٹھا ہے کس خیال میں
ڈھونڈتے پھر رہے ہیں سب میری جگہ مِرا سبب
کوئی ہزار میل میں، کوئی ہزار سال میں

Thursday, 12 January 2017

شب بھر یہ ہم تھے اور وہ ماہ تمام تھا

شب بھر، یہ ہم تھے اور وہ ماہِ تمام تھا
دل نے جو کر دیا ہے، سمندر کا کام تھا
دریا تو اپنی موج میں جانے کہاں گیا
دل میں وہ پھول ہے جو کناروں پہ عام تھا
رنجِ سفر میں ایک سے تھے، دشت و آبجو
رستے میں جو بھی تھا، وہ دعا کا مقام تھا

یوں جو پلکوں کو ملا کر نہیں دیکھا جاتا

یوں جو پلکوں کو مِلا کر نہیں دیکھا جاتا
ہر طرف ایک ہی منظر نہیں دیکھا جاتا
کام اتنے ہیں بیابانوں کے، ویرانوں کے
شام ہو جاتی ہے اور گھر نہیں دیکھا جاتا
جھانک لیتے ہیں گریباں میں، یہی ممکن ہے
ایسی پستی ہے کہ اُوپر نہیں دیکھا جاتا

کبھی خوشبو کبھی آواز بن جانا پڑے گا

کبھی خوشبو کبھی آواز بن جانا پڑے گا
پرندوں کو کسی بھی شکل میں آنا پڑے گا
خدا حافظ، بلند آواز سے کہنا پڑے گا
پھر اس آواز سےآگے نکل جانا پڑے گا
خود اپنے سامنے آتے ہوئے حیران ہیں ہم
ہمیں اب اس گلی سے گھوم کر جانا پڑے گا

Tuesday, 8 November 2016

سفر پہ جیسے کوئی گھر سے ہو کے جاتا ہے

سفر پہ جیسے کوئی گھر سے ہو کے جاتا ہے
ہر آبلہ مِرے اندر سے ہو کے جاتا ہے
جہاں سے چاہے گزر جائے موجۂ امید
یہ کیا کہ میرے برابر سے ہو کے جاتا ہے
جنوں کا پوچھیے ہم سے کہ شہر کا ہر چاک
اسی دکانِ رفوگر سے ہو کے جاتا ہے

ہمیں یونہی نہ سر آب و گل بنایا جائے

ہمیں یونہی نہ سرِ آب و گِل بنایا جائے
ہمارے خواب دئیے جائیں، دل بنایا جائے
دکھائی دیتا ہے تصویرِ جاں میں دونوں طرف
ہمارا زخم ذرا مندمل بنایا جائے
اگر جلایا گیا ہے کہیں دِیے سے دِیا
تو کیا عجب کہ کبھی دل سے دل بنایا جائے

وہ شہر کسی شہر میں محدود نہیں تھا

وہ شہر، کسی شہر میں محدود نہیں تھا
اس میں وہ سبھی کچھ تھا جو موجود نہیں تھا
گم ہو گئی زنجیر کی آواز میں آواز
افسوس، کہ ہم میں کوئی داؤد نہیں تھا
خاموش کچھ ایسا تھا کہ بس تھا ہی نہیں دل
آباد بس اتنا تھا کہ نابود نہیں تھا

Tuesday, 27 September 2016

ہوئی آغاز پھولوں کی کہانی

ہوئی آغاز پھولوں کی کہانی
وہ پہلا دل، وہ پہلی خوشگمانی
اداسی کی مہک آتی ہے مجھ سے
مِری تنہائی ہے اتنی پرانی
ہمیں دونوں کنارے دیکھنے ہیں
توجہ چاہتی ہے یہ روانی

جتنا آب و دانہ ہے

جتنا آب و دانہ ہے
اُتنا ہی ویرانہ ہے
ہم نے اپنی نیندوں کو
خوابوں سے پہچانا ہے
باغ کا تُربت ہو جانا
پھولوں کا اٹھ جانا ہے

میں جہاں تھا وہیں رہ گیا معذرت

میں جہاں تھا وہیں رہ گیا، معذرت
اے زمیں! معذرت، اے خدا! معذرت
کچھ بتاتے ہوئے، کچھ چھپاتے ہوئے
میں ہنسا، معذرت،۔ رو دیا، معذرت
خود تمہاری جگہ جا کے دیکھا ہے اور
خود سے کی ہے تمہاری جگہ معذرت