ہمیں یونہی نہ سرِ آب و گِل بنایا جائے
ہمارے خواب دئیے جائیں، دل بنایا جائے
دکھائی دیتا ہے تصویرِ جاں میں دونوں طرف
ہمارا زخم ذرا مندمل بنایا جائے
اگر جلایا گیا ہے کہیں دِیے سے دِیا
شدید تر ہے تسلسل میں ہجر کا موسم
کبھی ملو، کہ اسے معتدل بنایا جائے
یہ نقش بن نہیں سکتا تو کیا ضروری ہے
خراب و خستہ و خوار و خجل بنایا جائے
ذوالفقار عادل
No comments:
Post a Comment