نظر نظر اذیتیں مُعاملے عذاب کے
حقیقتوں میں گُھل گئے جو ذائقے تھے خواب کے
کوئی بھی دور بے بسی کا رُخ نہیں بدل سکا
ضعیفی میں ہی کٹ گئے وہ دن سبھی شباب کے
نہ پیٹ بھر کے کھا سکے نہ پی سکے نہ جی سکے
گنوا دی عُمر فرق میں گنُاہ اور ثواب کے
نظر نظر اذیتیں مُعاملے عذاب کے
حقیقتوں میں گُھل گئے جو ذائقے تھے خواب کے
کوئی بھی دور بے بسی کا رُخ نہیں بدل سکا
ضعیفی میں ہی کٹ گئے وہ دن سبھی شباب کے
نہ پیٹ بھر کے کھا سکے نہ پی سکے نہ جی سکے
گنوا دی عُمر فرق میں گنُاہ اور ثواب کے
موت کے سامنے کھڑی ہوں میں
عمر کی آخری گھڑی ہوں میں
تختِ افلاک تک نہیں پہنچی
کیسے عالَم میں آ پڑی ہوں میں
ناچتا ہے وہ رزق سڑکوں پر
جس کی خاطر بہت لڑی ہوں میں
رابطے بڑھانے میں کتنی دیر کر دی ہے
تم نے پاس آنے میں کتنی دیر کر دی ہے
مسکراتے رہنا تو زندگی کا حاصل ہے
ہم نے مسکرانے میں کتنی دیر کر دی ہے
میں تمہاری اپنی تھی میں تمہاری اپنی ہوں
تم نے حق جتانے میں کتنی دیر کر دی ہے
اس جگہ گر نہ سہی ہے تو کہیں اپنی بھی
یعنی دو گز تو پڑی ہو گی زمیں اپنی بھی
میں غلط بات پہ کیوں تیری حمایت کر دوں
میں تو ایسے میں طرفدار نہیں اپنی بھی
اس کی دہلیز پہ جھکنے کی ذرا دیر ہے بس
معتبر ہونے ہی والی ہے جبیں اپنی بھی