Showing posts with label ریحانہ کنول. Show all posts
Showing posts with label ریحانہ کنول. Show all posts

Thursday, 21 May 2026

نظر نظر اذیتیں معاملے عذاب کے

 نظر نظر اذیتیں مُعاملے عذاب کے

حقیقتوں میں گُھل گئے جو ذائقے تھے خواب کے

کوئی بھی دور بے بسی کا رُخ نہیں بدل سکا

ضعیفی میں ہی کٹ گئے وہ دن سبھی شباب کے

نہ پیٹ بھر کے کھا سکے نہ پی سکے نہ جی سکے

گنوا دی عُمر فرق میں گنُاہ اور ثواب کے

Sunday, 29 March 2026

موت کے سامنے کھڑی ہوں میں

 موت کے سامنے کھڑی ہوں میں

عمر کی آخری گھڑی ہوں میں

تختِ افلاک تک نہیں پہنچی

کیسے عالَم میں آ پڑی ہوں میں

ناچتا ہے وہ رزق سڑکوں پر

جس کی خاطر بہت لڑی ہوں میں

Friday, 16 April 2021

رابطے بڑھانے میں کتنی دیر کر دی ہے

 رابطے بڑھانے میں کتنی دیر کر دی ہے

تم نے پاس آنے میں کتنی دیر کر دی ہے

مسکراتے رہنا تو زندگی کا حاصل ہے

ہم نے مسکرانے میں کتنی دیر کر دی ہے

میں تمہاری اپنی تھی میں تمہاری اپنی ہوں

تم نے حق جتانے میں کتنی دیر کر دی ہے

Sunday, 15 November 2020

اس جگہ گر نہ سہی ہے تو کہیں اپنی بھی

 اس جگہ گر نہ سہی ہے تو کہیں اپنی بھی

یعنی دو گز تو پڑی ہو گی زمیں اپنی بھی

میں غلط بات پہ کیوں تیری حمایت کر دوں

میں تو ایسے میں طرفدار نہیں اپنی بھی

اس کی دہلیز پہ جھکنے کی ذرا دیر ہے بس

معتبر ہونے ہی والی ہے جبیں اپنی بھی