نظر نظر اذیتیں مُعاملے عذاب کے
حقیقتوں میں گُھل گئے جو ذائقے تھے خواب کے
کوئی بھی دور بے بسی کا رُخ نہیں بدل سکا
ضعیفی میں ہی کٹ گئے وہ دن سبھی شباب کے
نہ پیٹ بھر کے کھا سکے نہ پی سکے نہ جی سکے
گنوا دی عُمر فرق میں گنُاہ اور ثواب کے
ہیں ایک جیسے زاویے ہیں ایک جیسے تبصرے
پلٹ لیے کئی ورق حیات کی کتاب کے
بناوٹوں نے سادگی کا حُسن مختصر کِیا
وہ سابقے یہ لاحقے وہ محترم جناب کے
بھلا ہو کس طرح سے کوئی اپنی ذات کا مقام
چنبیلیاں اُٹھاتی رہ گئیں ہیں دُکھ گُلاب کے
خُوشی میں اور درد میں ہو امتیاز کس طرح
ڈبو دئیے شرابیوں نے فلسفے شراب کے
میں ایک گُونگی زندگی، میں ایک بہری آتما
مگر ہیں چرچے ہر جگہ کنول مِرے خطاب کے
ریحانہ کنول
No comments:
Post a Comment