Thursday, 21 May 2026

کرو گے کیا اگر ان بے پروں کے پر نکل آئے

 یہ بھُوکے لوگ جس دن گھر سے سڑکوں پر نکل آئے

کرو گے کیا اگر ان بے پروں کے پر نکل آئے

بہت ہُشیار لوگو اس نئی تاریخ کے ہاتھوں

نہ جانے کب تمہارا گھر کسی کا گھر نکل آئے

کہیں کے پھول پتے ہیں کہیں کے پھل کہیں کے ہیں

عجب سے پیڑ اب بھارت کی دھرتی پر نکل آئے

جہاں سب بک رہا ہو اس جگہ ایسا بھی ممکن ہے

مِرے ہی قتل کا الزام میرے سر نکل آئے

در تقدیس کو جب وا کیا تو قصر حرمت سے

بتاؤں کس زباں سے کتنے سوداگر نکل آئے

تمہارا اور تمہارے نظم کا اس روز کیا ہو گا

کبھی سوچا ہے دیواروں میں جس دن در نکل آئے

سعادت آپ اس دیدہ وروں کی بھیڑ میں ڈھونڈیں

بہت ممکن ہے ان میں کوئی دیدہ ور نکل آئے


سعادت عابدی

سید سعادت علی ہاشمی

No comments:

Post a Comment