عُمرِ رفتہ کا یہ خلاصہ ہے
زِندگانی فقط تماشہ ہے
آج کا ڈُوبتا ہوا یہ دن
ہجر کی عمر میں اضافہ ہے
کیا بتاؤں میں اس کے بارے میں
خوبصورت وہ بے تحاشہ ہے
مال و زر سے ہیں رونقیں لیکن
اُلجھنوں کا سبب بھی پیسہ ہے
میرے دل کی رگوں کو کاٹے ہے
تیری آنکھوں کا جو تراشہ ہے
لوٹ آنا ہے ایک دن اس نے
زندہ رہنے کا اک دِلاسہ ہے
سلمان خاور
سلمان منیر احمد خاور
No comments:
Post a Comment