Monday, 18 May 2026

دل لگانے کی بھول تھے پہلے

 دل لگانے کی بھول تھے پہلے

اب جو پتھر ہیں پھول تھے پہلے

مدتوں بعد وہ ہوا قائل

ہم اسے کب قبول تھے پہلے

اس سے مل کر ہوئے ہیں کارآمد

چاند تارے فضول تھے پہلے

لوگ گرتے نہیں تھے نظروں سے

عشق کے کچھ اصول تھے پہلے

ان داتا ہیں اب گلابوں کے

جتنے سوکھے ببول تھے پہلے

آج کانٹے ہیں ان کی شاخوں پر

جن درختوں پہ پھول تھے پہلے

دور حاضر کی یہ عنایت ہے

ہم نہ اتنے ملول تھے پہلے

جھوٹھے الزام مان لیتے ہیں

ہم بھی شاید رسول تھے پہلے

جن کے ناموں پہ آج رستے ہیں

وہی رستوں کی دھول تھے پہلے


سوریا بھانو گپت

No comments:

Post a Comment