Monday, 11 May 2026

کیا فائدہ اصرار سے ہوتے ہیں جو سر آپ

 کیا فائدہ اصرار سے ہوتے ہیں جو سر آپ

ہاں میں تو وفا کر کے دِکھا دوں گا مگر آپ

کچھ ایسی کشش ہے تِرے نقشِ کفِ پا میں

ہم بھُول بھی جاتے ہیں جھُک جاتا ہے سر آپ

چُوکا جو نشانہ تو خفا ہو گئے مجھ سے

خُود تو کبھی رکھتے نہیں تیروں کی خبر آپ

اب پیر مغاں! فصلِ بہاراں کے ہیں چرچے

چلیے تو ذرا کھولیے مے خانے کا در آپ

ہر پھر کے کلیجہ کو مِرے توڑ ہی ڈالا

لگتا ہے نشانے پہ تِرا تیرِ نظر آپ

دُھل جائیں گے عصیاں مِرے یا سیدِ ابرار

شبر کو بلا لیں گے مدینے میں اگر آپ


شبر جیلانی قمری

No comments:

Post a Comment