کیا فائدہ اصرار سے ہوتے ہیں جو سر آپ
ہاں میں تو وفا کر کے دِکھا دوں گا مگر آپ
کچھ ایسی کشش ہے تِرے نقشِ کفِ پا میں
ہم بھُول بھی جاتے ہیں جھُک جاتا ہے سر آپ
چُوکا جو نشانہ تو خفا ہو گئے مجھ سے
خُود تو کبھی رکھتے نہیں تیروں کی خبر آپ
اب پیر مغاں! فصلِ بہاراں کے ہیں چرچے
چلیے تو ذرا کھولیے مے خانے کا در آپ
ہر پھر کے کلیجہ کو مِرے توڑ ہی ڈالا
لگتا ہے نشانے پہ تِرا تیرِ نظر آپ
دُھل جائیں گے عصیاں مِرے یا سیدِ ابرار
شبر کو بلا لیں گے مدینے میں اگر آپ
شبر جیلانی قمری
No comments:
Post a Comment