بشر دُشمن بشر کا ہو گیا ہے
خُداوندا! یہ کیسا ماجرا ہے
خبر شہرِ سبا سے کون لائے
کہ اب رُوٹھی ہوئی بادِ صبا ہے
نہیں گر دیکھتا کوئی تو کیا غم
کہ جس کو دیکھنا تھا دیکھتا ہے
دلوں میں جو دُھواں بیٹھا ہوا تھا
وہی گلیوں میں اب اُٹھنے لگا ہے
گیا تھا ٹُوٹ جو مجنوں پہ آ کر
وہی پھر سلسلہ ہم سے چلا ہے
نہیں تھمنے کی رفتارِ غمِ دل
یہی نیلم نے کل مجھ سے کہا ہے
زمیں پر ہے خُدا کا قہر نازل
مصیبت میں زمانہ مُبتلا ہے
ڈاکٹر صابر آفاقی
No comments:
Post a Comment