Sunday, 3 May 2026

تو حسن کا پیکر ہے تو رعنائی کی تصویر اے وادئ کشمیر

 اے وادئ کشمیر! اے وادئ کشمیر


تُو حُسن کا پیکر ہے، تُو رعنائی کی تصویر

مخمور بہاروں کے حسین خوابوں کی تعبیر

رخشاں ہیں تیرے ماتھے پہ آنادی کی تنویر

تو جلوہ گہ نور جہان، قلب جہانگیر

اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر


ہر لمحہ مچلتی ہیں تیرے من میں بہاریں

مے خانہ در آغوش درختوں کی قطاریں

چشموں کے ترانے ہیں کہ ساون کی ملہاریں

ندیوں میں تِری نغمۂ آزادی کی تفسیر

اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر


کیوں تِری فضاؤں میں اُداسی کے نشان ہیں

نکھرے ہوئے گُلزار بھی کیوں محو فغاں ہیں

چشمے تِرے کیوں نالہ کش و نوحہ کناں ہیں

کُہسار تِرے کیوں ہیں جگر بستہ و دِلگیر

اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر


شاید تجھے مُسلم کی وفاؤں سے گِلا ہے

فریاد تِری سچ ہے، تِرا شکوہ بجا ہے

لیکن میرے محبوب وہ وقت آن لگا ہے

گونجے گا فضاؤں میں جب اک نعرۂ تکبیر

اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر


مانا کہ دلوں میں وہ تب و تاب نہیں ہے

اس قوم کی تلوار میں وہ آب نہیں ہے

اب عزمِ مُسلمان وہ سیلاب نہیں ہے

گردش میں ہے برسوں سے مِری قوم کی تقدیر

اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر


مانا تِری مٹی پہ بہت خُون بہا ہے

تُو نے غم و آلام غلامی کو سہا ہے

لیکن مِرے ہمدم! مِرا دل بول رہا ہے

ہمت کی حرارت سے پگھل جائے گی زنجیر

اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر


تکبیر کا نعرہ تِری عصمت کا امیں ہے

چھٹنے کو ہے تاریکئ غم، مجھ کو یقین ہے

کیا ظُلمتِ شب صبح کی تمہید نہیں ہے؟

کیا خُونِ شفق رنگ نہیں مژدۂ تنویر؟

اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر


اب وقت ہے سینوں میں عزائم کو جگا لیں

ہم جام و سبُو توڑ کے تلوار اُٹھا لیں

ہر راه گُلستان کو کمیں گاہ بنا لیں

کمزور ہے، لیکن ابھی ٹُوٹی نہیں شمشیر

اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر


ہیں یاد ابھی تک خالد و طارق کے فسانے

کچھ دور نہیں احمد و ٹیپو کے زمانے

اٹھو، کہ چلیں ظُلم کو دنیا سے مٹانے

پھر زندہ کریں دہر میں یہ اسوۂ شبیرؑ

اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر


ہم کو تِرے شاداب نظاروں کی قسم ہے

جہلم کے دلآویز کناروں کی قسم ہے

پھولوں کی، درختوں کی چناروں کی قسم ہے

کاٹیں گے تِرے پاؤں سے ہر ظُلم کی زنجیر

اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر


سر حُرمتِ توحید پہ کٹوا کے رہیں گے

ہم کُفر کے طُوفان سے ٹکرا کے رہیں گے

طاغوت کے ایوان کو اب ڈھا کے رہیں گے

پیوندِ زمین ہو گی ہر اک کُفر کی تعمیر

اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر


اک غلغلہ، نعرۂ تکبیر اٹھا کر

یہ برق تپاں خرمن باطل پہ گرا کر

توپوں سے برستے ہوئے شعلوں میں نہا کر

ہم خون سے لکھیں گے تِری آزادی کی تحریر

اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر


دُشمن کے عزائم تیری مٹی میں ملیں گے

مُدت سے جو رستے ہیں، تِرے زخم سلیں گے

اس خاک پہ اُلفت کے حسیں پھُول کھلیں گے

صیاد جو اب تک تھا وہ بن جائے گا نخچیر

اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر


پھوٹیں گے تِری خاک سے پھر نُور کی دھارے

ظُلمت کدۂ کُفر سے اُٹھیں گے شرارے

گُونجے گی اذانوں کی صدا دل کے کنارے

پھر جاگ اُٹھے گی تِری سوئی ہوئی تقدیر

اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر


تُو خاتم دنیا کا اک انمول نگیں ہے

تُو حُسن کا مسکن ہے، تُو بہاروں سے حسیں ہے

آسی کی نگاہوں میں تو فردوس بریں ہے

فردوس تو ہوتی نہیں، شیطان کی جاگیر

اے وادئ کشمیر، اے وادئ کشمیر


مفتی تقی عثمانی

جون 1965

No comments:

Post a Comment