عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مستنیرِ نُورِ وحدت حضرتِ فاروقؓ ہیں
ہالۂ ماہِ رسالتﷺ حضرتِ فاروقؓ ہیں
ہیں وصالِ مصطفیٰ پر آپ صدمے سے نڈھال
غم زدہ، تصویرِ حسرت حضرتِ فاروقؓ ہیں
ان کی حالت دیکھ لو پھر تم کہو انصاف سے
کیا طلب گارِ خلافت حضرتِ فاروقؓ ہیں؟
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مستنیرِ نُورِ وحدت حضرتِ فاروقؓ ہیں
ہالۂ ماہِ رسالتﷺ حضرتِ فاروقؓ ہیں
ہیں وصالِ مصطفیٰ پر آپ صدمے سے نڈھال
غم زدہ، تصویرِ حسرت حضرتِ فاروقؓ ہیں
ان کی حالت دیکھ لو پھر تم کہو انصاف سے
کیا طلب گارِ خلافت حضرتِ فاروقؓ ہیں؟
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
حق کی عطا سے بارشِ فیضانِ نعت ہے
فکر و شعور و قلب میں ارمانِ نعت ہے
وہ جانِ کائنات ہیں، وہ شانِ کائنات
"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"
لازم ہے نعت کہنے میں حساںؓ کی پیروی
حسانؓ باغبان گلستانِ نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام
"زہے نصیب، میں سرکارؑ کے دیار میں ہوں"
خوشا کہ گنبدِ خضرا ہی کے جوار میں ہوں
خدا کا شکر ہے، میں ان دنوں کہاں آیا
کبھی قُبا میں، کبھی اُن کی رہگزار میں ہوں
بلایا مسجدِ آقاﷺ میں میرے خالق نے
نظر ہے روضے پہ میں صحنِ سایہ دار میں ہوں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
افضل الانبیاء آپﷺ ہی ہیں شہاؐ خاتم الانبیاء
آپﷺ کے نام پر ہم ہیں دل سے فدا خاتم الانبیاء
بعد اللہ کے آپﷺ کا مرتبہ، آپﷺ صدرالعلیٰ
سب جہانوں میں کوئی نہیں آپﷺ سا خاتم الانبیاء
رب نے پیغام، اقراء کا بھیجا وہیں، لائے روح الامیںؑ
آپﷺ کے نور سے ہے منور حِرا، خاتم الانبیاء
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جاری مِری زبان پہ ذکرِ رسولﷺ ہے
روضے پہ جن کے رحمتِ حق کا نزول ہے
جب سے ہوا ظہور نبوتﷺ کے چاند کا
ظلمت کا جو سحاب ہے، بے حد ملول ہے
حُبِ رسولﷺ دل میں نہیں پھر بھی پارسا؟
جو ایسا سمجھے، جان لے یہ اس کی بھول ہے
عارفانہ کلام منقبت بر حضرت عثمانؓ ذوالنورین
تصویرِ حیا، پیکرِ ایمان ہیں عثمانؓ
کردار میں اللہ کی بُرہان ہیں عثمان
حقا کہ ہے عثمان کو قرآن سے محبت
شک اس میں نہیں، جامعِ قرآن ہیں عثمان
جنت کی بشارت ہے ملی جن کو نبیؐ سے
یاران شہِ دیںﷺ میں وہ ذیشان ہیں عثمان
مرحبا صد مرحبا آمد شہِ ذیشانﷺ کی
آپ کے آنے سے عزت بڑھ گئی انسان کی
آپ نے باتیں بتائیں سب کو ہیں رحمان کی
آپ سے اُمت کو ہے نعمت ملی قرآن کی
دونوں عالم میں بہاریں آپ کے فیضان کی
آپ ہیں اللہ کے محبوب اے پیارے نبیﷺ
سنا ہے ساقی تِرا لطف عام ہے شاید
بغیر وقفے کے، گردش میں جام ہے شاید
سمجھ میں آتی نہیں کچھ زباں ترنم کی
یہ آبشار بھی محوِ کلام ہے شاید
تجھے بھلانے کی ہم نے عبث ہے کوشش کی
کتابِ دل پہ لکھا تیرا نام ہے شاید
نہیں غمخوار بر روئے زمیں ہے
اسی باعث تو اپنا دل حزیں ہے
دکھاوے کی ہیں باتیں دوستوں کی
کسی کو کوئی ہمدردی نہیں ہے
یہاں ہے حسن کا دعویٰ سبھی کو
حسیں وہ ہے کہ جس کا دل حسیں ہے
نقش بر آب
دنیا میں پائیداری
ہرگز نہیں ملے گی
دنیا یہ عارضی ہے
فانی ہے قصرِ ہستی
اک فلم چل رہی ہے
منظر بدل رہے ہیں
آنکھ میں کرب کی نمی ہے میاں
اور لب پر سجی ہنسی ہے میاں
سازِ دل پر جمود طاری ہے
کیسی محفل میں بے حسی ہے میاں
پیٹھ پیچھے برائی کرتے ہو
نام کیا اس کا دوستی ہے میاں
عارفانہ کلام نعتیہ کلام
انؐ کا مقام ماورا وہم وگماں سے ہے
منزل بلند انؐ کی بہت آسماں سے ہے
سر پہ گنہ کا بوجھ لیے آ گئے غلام
ان کو کرم کی آس شہِؐ دو جہاں سے ہے
سرورؐ کے دل پہ اترا ہے ایسا کلامِ حق
عظمت میں بڑھ کے بے گماں کوہِ گراں سے ہے
آئی صبا ہے کاکلِ گُل کو سنوار کے
پُھولوں کے رُخ کو آ گئی شبنم نکھار کے
اس کارگاہِ زیست کا ہے منتظم وہی
دیکھو بغور کام یہ پروردگار کے
اُس کے کرم سے وقت گزرتا ہے اس طرح
عادی ہوئے ہیں گردشِ لیل و نہار کے
خزاں نے کہا یہ، بہار آ نہ جائے
دلِ مضطرب کو قرار آ نہ جائے
نہ یوں میٹھی میٹھی نگاہوں سے دیکھو
ہمیں پیار دیوانہ وار آ نہ جائے
یہ جشن طرب ہے، یہاں سخت پہرے
اچانک کوئی دل فگار آ نہ جائے