Showing posts with label تنویر پھول. Show all posts
Showing posts with label تنویر پھول. Show all posts

Sunday, 14 January 2024

مستنیر نور وحدت حضرت فاروق ہیں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مستنیرِ نُورِ وحدت حضرتِ فاروقؓ ہیں

ہالۂ ماہِ رسالتﷺ حضرتِ فاروقؓ ہیں

ہیں وصالِ مصطفیٰ پر آپ صدمے سے نڈھال

غم زدہ، تصویرِ حسرت حضرتِ فاروقؓ ہیں

ان کی حالت دیکھ لو پھر تم کہو انصاف سے

کیا طلب گارِ خلافت حضرتِ فاروقؓ ہیں؟

Tuesday, 28 November 2023

حق کی عطا سے بارش فیضان نعت ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


حق کی عطا سے بارشِ فیضانِ نعت ہے

فکر و شعور و قلب میں ارمانِ نعت ہے

وہ جانِ کائنات ہیں، وہ شانِ کائنات

"ہر شعبۂ حیات میں امکانِ نعت ہے"

لازم ہے نعت کہنے میں حساںؓ کی پیروی

حسانؓ باغبان گلستانِ نعت ہے

Monday, 31 July 2023

خوشا کہ گنبد خضرا ہی کے جوار میں ہوں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت سلام


"زہے نصیب، میں سرکارؑ کے دیار میں ہوں"

خوشا کہ گنبدِ خضرا ہی کے جوار میں ہوں

خدا کا شکر ہے، میں ان دنوں کہاں آیا

کبھی قُبا میں، کبھی اُن کی رہگزار میں ہوں

بلایا مسجدِ آقاﷺ میں میرے خالق نے

نظر ہے روضے پہ میں صحنِ سایہ دار میں ہوں

Friday, 14 July 2023

افضل الانبیاء آپ ہی ہیں شہا خاتم الانبیاء

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


افضل الانبیاء آپﷺ ہی ہیں شہاؐ خاتم الانبیاء

آپﷺ کے نام پر ہم ہیں دل سے فدا خاتم الانبیاء

بعد اللہ کے آپﷺ کا مرتبہ، آپﷺ صدرالعلیٰ

سب جہانوں میں کوئی نہیں آپﷺ سا خاتم الانبیاء

رب نے پیغام، اقراء کا بھیجا وہیں، لائے روح الامیںؑ

آپﷺ کے نور سے ہے منور حِرا، خاتم الانبیاء

Sunday, 9 October 2022

جاری مری زبان پہ ذکر رسول ہے

 عارفانہ کلام نعتیہ کلام


جاری مِری زبان پہ ذکرِ رسولﷺ ہے

روضے پہ جن کے رحمتِ حق کا نزول ہے

جب سے ہوا ظہور نبوتﷺ کے چاند کا

ظلمت کا جو سحاب ہے، بے حد ملول ہے

حُبِ رسولﷺ دل میں نہیں پھر بھی پارسا؟

جو ایسا سمجھے، جان لے یہ اس کی بھول ہے

Wednesday, 1 December 2021

تصویر حیا پیکر ایمان ہیں عثمان

 عارفانہ کلام منقبت بر حضرت عثمانؓ ذوالنورین


تصویرِ حیا، پیکرِ ایمان ہیں عثمانؓ

کردار میں اللہ کی بُرہان ہیں عثمان

حقا کہ ہے عثمان کو قرآن سے محبت

شک اس میں نہیں، جامعِ قرآن ہیں عثمان

جنت کی بشارت ہے ملی جن کو نبیؐ سے

یاران شہِ دیںﷺ میں وہ ذیشان ہیں عثمان

Thursday, 7 October 2021

مرحبا صد مرحبا آمد شہ ذیشان کی

 مرحبا صد مرحبا آمد شہِ ذیشانﷺ کی

آپ کے آنے سے عزت بڑھ گئی انسان کی

آپ نے باتیں بتائیں سب کو ہیں رحمان کی

آپ سے اُمت کو ہے نعمت ملی قرآن کی

دونوں عالم میں بہاریں آپ کے فیضان کی


آپ ہیں اللہ کے محبوب اے پیارے نبیﷺ

Monday, 27 September 2021

سنا ہے ساقی ترا لطف عام ہے شاید

 سنا ہے ساقی تِرا لطف عام ہے شاید

بغیر وقفے کے، گردش میں جام ہے شاید

سمجھ میں آتی نہیں کچھ زباں ترنم کی

یہ آبشار بھی محوِ کلام ہے شاید

تجھے بھلانے کی ہم نے عبث ہے کوشش کی

کتابِ دل پہ لکھا تیرا نام ہے شاید

Tuesday, 21 September 2021

نہیں غمخوار بر روئے زمیں ہے

 نہیں غمخوار بر روئے زمیں ہے

اسی باعث تو اپنا دل حزیں ہے

دکھاوے کی ہیں باتیں دوستوں کی

کسی کو کوئی ہمدردی نہیں ہے

یہاں ہے حسن کا دعویٰ سبھی کو

حسیں وہ ہے کہ جس کا دل حسیں ہے

Saturday, 18 September 2021

دنیا میں پائیداری ہرگز نہیں ملے گی

 نقش بر آب 


دنیا میں پائیداری

ہرگز نہیں ملے گی

دنیا یہ عارضی ہے

فانی ہے قصرِ ہستی

اک فلم چل رہی ہے

منظر بدل رہے ہیں

Thursday, 16 September 2021

آنکھ میں کرب کی نمی ہے میاں

 آنکھ میں کرب کی نمی ہے میاں

اور لب پر سجی ہنسی ہے میاں

سازِ دل پر جمود طاری ہے

کیسی محفل میں بے حسی ہے میاں

پیٹھ پیچھے برائی کرتے ہو

نام کیا اس کا دوستی ہے میاں

ان کا مقام ماورا وہم وگماں سے ہے

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


انؐ کا مقام ماورا وہم وگماں سے ہے

منزل بلند انؐ کی بہت آسماں سے ہے

سر پہ گنہ کا بوجھ لیے آ گئے غلام

ان کو کرم کی آس شہِؐ دو جہاں سے ہے

سرورؐ کے دل پہ اترا ہے ایسا کلامِ حق

عظمت میں بڑھ کے بے گماں کوہِ گراں سے ہے

Wednesday, 15 September 2021

آئی صبا ہے کاکل گل کو سنوار کے

 آئی صبا ہے کاکلِ گُل کو سنوار کے

پُھولوں کے رُخ کو آ گئی شبنم نکھار کے

اس کارگاہِ زیست کا ہے منتظم وہی

دیکھو بغور کام یہ پروردگار کے

اُس کے کرم سے وقت گزرتا ہے اس طرح

عادی ہوئے ہیں گردشِ لیل و نہار کے

Thursday, 15 April 2021

خزاں نے کہا یہ بہار آ نہ جائے

 خزاں نے کہا یہ، بہار آ نہ جائے

دلِ مضطرب کو قرار آ نہ جائے

نہ یوں میٹھی میٹھی نگاہوں سے دیکھو

ہمیں پیار دیوانہ وار آ نہ جائے

یہ جشن طرب ہے، یہاں سخت پہرے

اچانک کوئی دل فگار آ نہ جائے

Thursday, 17 December 2015

دیتے ہیں وفا ہی سے جفاؤں کا صلہ ہم

دیتے ہیں وفا ہی سے جفاؤں کا صلہ ہم
"کیا دل کے تڑپنے کا اٹھاتے ہیں مزا ہم"
مضراب ہر اک سانس ہے سازینۂ دل پر
دل سوز ترانے ہی سناتے ہیں سدا ہم
اس میں نہ کوئی جیت، نہ ہے ہار کسی کی
آؤ گلے مل جائیں محبت سے یاں باہم

نہ تم دیکھتے ہو نہ ہم دیکھتے ہیں

نہ تم دیکھتے ہو، نہ ہم دیکھتے ہیں
محبت میں کب پیچ و خم دیکھتے ہیں
جو الفت کے رستے میں ہوتے ہیں قرباں
نہ وہ حاصلِ بیش و کم دیکھتے ہیں
ٹھہر ابنِ آدمؑ فلک سے ملائک
"تماشائے اہلِ ستم دیکھتے ہیں"