عارفانہ کلام نعتیہ کلام
جاری مِری زبان پہ ذکرِ رسولﷺ ہے
روضے پہ جن کے رحمتِ حق کا نزول ہے
جب سے ہوا ظہور نبوتﷺ کے چاند کا
ظلمت کا جو سحاب ہے، بے حد ملول ہے
حُبِ رسولﷺ دل میں نہیں پھر بھی پارسا؟
جو ایسا سمجھے، جان لے یہ اس کی بھول ہے
الفت ہو انﷺ سے، دین کی ہے شرطِ اولیں
اس میں اگر کمی ہے تو سب کچھ فضول ہے
قرباں ہیں جان و دل سے شہِ دیںؐ پہ ہم سبھی
مادر ہیں جن کی آمنہؑ، دختر بتولؑ ہے
سنگِ در رسولﷺ ہو تکیہ بنا ہوا
اس حال میں اجل تو خوشی سے قبول ہے
رخ آپﷺ کا ہے غیرت خورشید ضوفشاں
اور چاندنی تو آپؐ کے قدموں کی دھول ہے
پڑھنا درودﷺ اسمِ گرامی پہ دم بدم
ہر عاشق رسولﷺ کا زریں اصول ہے
چشمِ کرم شہاﷺ ہو خدا را مِری طرف
ادنیٰ غلام آپﷺ کا کہتا یہ پھول ہے
تنویر پھول
تمام احباب کو جشنِ مولود نبیﷺ مبارک ہو۔
No comments:
Post a Comment