اک سبز خواہش
وہ زرد موسم میں سبز خواہش
کی شاہزادی
خزاں رسیدہ چمن میں آئی
تو سب نے دیکھا
کہ دُھند رستوں سے چھٹ گئی ہے
ہوا کے آنگن سے حبس کی بدنما سی
اک سبز خواہش
وہ زرد موسم میں سبز خواہش
کی شاہزادی
خزاں رسیدہ چمن میں آئی
تو سب نے دیکھا
کہ دُھند رستوں سے چھٹ گئی ہے
ہوا کے آنگن سے حبس کی بدنما سی
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
مِری دعاؤں میں آقاﷺ اثر عطا کر دے
صدف ہوں میں، مجھے مِرا گہر عطا کر دے
خمارِ طوق و سلاسل، کہیں ہے رقصِ جنوں
جو دیکھ پائے، مجھے وہ نظر عطا کر دے
بڑے دکھوں میں گُزاری ہے زندگی کی شام
خوشی ہو جس کا ثمر، وہ سحر عطا کر دے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
درود اسؐ پر کہ جس نے سربلندی خاک کو بخشی
تجلی آدمی کی قریۂ افلاک کو بخشی
درود اسؐ پر کہ جو جمہوریت کا دین لایا تھا
جو لوگوں کی بھلائی کے لیے لوگوں میں آیا تھا
درود اسؐ پر کہ جو جاگیرداری کا مخالف تھا
جہاں میں مال و زر کی شہریاری کا مخالف تھا
نورِ چراغِ راہ سے آگے کی بات کر
یعنی حدِ نگاہ سے آگے کی بات کر
منصب کے اور سلسلے بھی گفتگو میں لا
اس جُبہ و کلاہ سے آگے کی بات کر
افلاک سے بھی پار کا درپیش ہے سفر
تاروں کی اس سپاہ سے آگے کی بات کر
جو کہہ دیا وہ کر کے دکھانا پڑا مجھے
اس دل لگی میں جان سے جانا پڑا مجھے
جس کے بغیر سانس بھی لینا محال تھا
ہائے، وہ ایک شخص بُھلانا پڑا مجھے
جیون میں کوئی اور تھا دل میں تھا کوئی اور
دونوں سے دل کا حال چُھپانا پڑا مجھے
ہونٹوں سے دور رکھ کہیں ہونٹوں کا یہ سبو
میں تو خود اپنے آپ سے ہوں محوِ گفتگو
میں خانقاہِ دل میں جلاتی رہی چراغ
اس آس میں کہ تُو ہو کبھی میرے روبرو
اُس نے مِرے خیالوں کو تجسیم کر دیا
وہ جو دکھائی دیتا ہے مجھ کو چہار سو
آنکھوں میں ایک خواب سی صورت اُتار کر
کہتا ہے کوئی دشتِ تمنا کو پار کر
کل شام مجھ کو پگلی ہوا چُومتی رہی
خُوشبو مِرے وجود کے اندر اُتار کر
دل ہے کسی کی مستی میں دم بخود
اے عشقِ بے پناہ! اسے سنگسار کر
اس دشتِ آرزو میں بکھرنے تو دے مجھے
اعلان وحشتوں کا وہ کرنے تو دے مجھے
یہ میرا مسئلہ ہے کہ کیسے کروں قیام
پہلے وہ اپنے دل میں اُترنے تو دے مجھے
دیکھے تو ایک بار کبھی وہ بھی پیار سے
تکمیل اپنی ذات کی کرنے تو دے مجھے
دکھ اپنا چھپانے میں ذرا وقت لگے گا
اب اس کو بھلانے میں ذرا وقت لگے گا
تو نے جو پکارا تو پلٹ آؤں گی واپس
ہاں لوٹ کے آنے میں ذرا وقت لگے گا
لکھا تھا بڑے چاؤ سے جس نام کو دل پر
وہ نام مٹانے میں ذرا وقت لگے گا
اس جہاں پہ حال دل آشکار کرنا ہے
آج ایک حاسد کو رازدار کرنا ہے
کرنے ہیں گلے اس سے رنجشیں بھی رکھنی ہیں
پیار بھی ستم گر کو بے شمار کرنا ہے
موسم یقیں میں جو بد گمان رہتا ہے
اس سے پیار کا رشتہ استوار کرنا ہے
کب تک بھنور کے بیچ سہارا ملے مجھے
طوفاں کے بعد کوئی کنارا ملے مجھے
جیون میں حادثوں کی ہی تکرار کیوں رہے
لمحہ کوئی خوشی کا دوبارہ ملے مجھے
بن چاہے میری راہ میں کیوں آ رہے ہیں لوگ
جو چاہتی ہوں میں وہ نظارا ملے مجھے
کرے وصال کہ ہجراں کی انتہا ہی کرے
بدن کو درد کی شدت سے آشنا ہی کرے
وہ کچھ کہے مجھے تنہائی کی مسافت میں
یہ نیک بخت محبت کوئی خطا ہی کرے
کوئی تو بات چلے کوئے یار میں میری
برا ہی کوئی کہے مجھ کو، بس گلہ ہی کرے
میں جاگی ہوئی ہوں کہ سوئی ہوئی ہوں
خیالوں کے صحرا میں کھوئی ہوئی ہوں
لبوں پر ہنسی، رخ پہ شبنم کے قطرے
میں کھل کر ہنسی ہوں کہ روئی ہوئی ہوں
نمو کس طرح ہو مری خواہشوں کی
کہ بنجر زمینوں میں بوئی ہوئی ہوں