Showing posts with label صغرا صدف. Show all posts
Showing posts with label صغرا صدف. Show all posts

Friday, 12 April 2024

وہ زرد موسم میں سبز خواہش کی شاہزادی

 اک سبز خواہش


وہ زرد موسم میں سبز خواہش 

کی شاہزادی 

خزاں رسیدہ چمن میں آئی 

تو سب نے دیکھا 

کہ دُھند رستوں سے چھٹ گئی ہے 

ہوا کے آنگن سے حبس کی بدنما سی 

Friday, 14 July 2023

مری دعاؤں میں آقا اثر عطا کر دے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


مِری دعاؤں میں آقاﷺ اثر عطا کر دے

صدف ہوں میں، مجھے مِرا گہر عطا کر دے

خمارِ طوق و سلاسل، کہیں ہے رقصِ جنوں

جو دیکھ پائے، مجھے وہ نظر عطا کر دے

بڑے دکھوں میں گُزاری ہے زندگی کی شام

خوشی ہو جس کا ثمر، وہ سحر عطا کر دے

Saturday, 1 April 2023

درود اس پر کہ جس نے سربلندی خاک کو بخشی

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


درود اسؐ پر کہ جس نے سربلندی خاک کو بخشی

تجلی آدمی کی قریۂ افلاک کو بخشی

درود اسؐ پر کہ جو جمہوریت کا دین لایا تھا

جو لوگوں کی بھلائی کے لیے لوگوں میں آیا تھا

درود اسؐ پر کہ جو جاگیرداری کا مخالف تھا

جہاں میں مال و زر کی شہریاری کا مخالف تھا

Wednesday, 4 January 2023

نور چراغ راہ سے آگے کی بات کر

 نورِ چراغِ راہ سے آگے کی بات کر

یعنی حدِ  نگاہ سے آگے کی بات کر

منصب کے اور سلسلے بھی گفتگو میں لا

اس جُبہ و کلاہ سے آگے کی بات کر

افلاک سے بھی پار کا درپیش ہے سفر 

تاروں کی اس سپاہ سے آگے کی بات کر

Friday, 13 August 2021

جو کہہ دیا وہ کر کے دکھانا پڑا مجھے

 جو کہہ دیا وہ کر کے دکھانا پڑا مجھے

اس دل لگی میں جان سے جانا پڑا مجھے

جس کے بغیر سانس بھی لینا محال تھا

ہائے، وہ ایک شخص بُھلانا پڑا مجھے

جیون میں کوئی اور تھا دل میں تھا کوئی اور

دونوں سے دل کا حال چُھپانا پڑا مجھے

Thursday, 22 July 2021

ہونٹوں سے دور رکھ کہیں ہونٹوں کا یہ سبو

 ہونٹوں سے دور رکھ کہیں ہونٹوں کا یہ سبو

میں تو خود اپنے آپ سے ہوں محوِ گفتگو

میں خانقاہِ دل میں جلاتی رہی چراغ

اس آس میں کہ تُو ہو کبھی میرے روبرو

اُس نے مِرے خیالوں کو تجسیم کر دیا

وہ جو دکھائی دیتا ہے مجھ کو چہار سو

Tuesday, 8 June 2021

آنکھوں میں ایک خواب سی صورت اتار کر

 آنکھوں میں ایک خواب سی صورت اُتار کر

کہتا ہے کوئی دشتِ تمنا کو پار کر

کل شام مجھ کو پگلی ہوا چُومتی رہی

خُوشبو مِرے وجود کے اندر اُتار کر

دل ہے کسی کی مستی میں دم بخود

اے عشقِ بے پناہ! اسے سنگسار کر

Wednesday, 26 May 2021

اس دشت آرزو میں بکھرنے تو دے مجھے

 اس دشتِ آرزو میں بکھرنے تو دے مجھے

اعلان وحشتوں کا وہ کرنے تو دے مجھے

یہ میرا مسئلہ ہے کہ کیسے کروں قیام

پہلے وہ اپنے دل میں اُترنے تو دے مجھے

دیکھے تو ایک بار کبھی وہ بھی پیار سے

تکمیل اپنی ذات کی کرنے تو دے مجھے

دکھ اپنا چھپانے میں ذرا وقت لگے گا

 دکھ اپنا چھپانے میں ذرا وقت لگے گا 

اب اس کو بھلانے میں ذرا وقت لگے گا 

تو نے جو پکارا تو پلٹ آؤں گی واپس 

ہاں لوٹ کے آنے میں ذرا وقت لگے گا 

لکھا تھا بڑے چاؤ سے جس نام کو دل پر 

وہ نام مٹانے میں ذرا وقت لگے گا 

Tuesday, 25 May 2021

اس جہاں پہ حال دل آشکار کرنا ہے

 اس جہاں پہ حال دل آشکار کرنا ہے 

آج ایک حاسد کو رازدار کرنا ہے 

کرنے ہیں گلے اس سے رنجشیں بھی رکھنی ہیں 

پیار بھی ستم گر کو بے شمار کرنا ہے 

موسم یقیں میں جو بد گمان رہتا ہے 

اس سے پیار کا رشتہ استوار کرنا ہے

کب تک بھنور کے بیچ سہارا ملے مجھے

 کب تک بھنور کے بیچ سہارا ملے مجھے

طوفاں کے بعد کوئی کنارا ملے مجھے

جیون میں حادثوں کی ہی تکرار کیوں رہے

لمحہ کوئی خوشی کا دوبارہ ملے مجھے

بن چاہے میری راہ میں کیوں آ رہے ہیں لوگ

جو چاہتی ہوں میں وہ نظارا ملے مجھے

Sunday, 23 May 2021

کرے وصال کہ ہجراں کی انتہا ہی کرے

 کرے وصال کہ ہجراں کی انتہا ہی کرے

بدن کو درد کی شدت سے آشنا ہی کرے

وہ کچھ کہے مجھے تنہائی کی مسافت میں

یہ نیک بخت محبت کوئی خطا ہی کرے

کوئی تو بات چلے کوئے یار میں میری

برا ہی کوئی کہے مجھ کو، بس گلہ ہی کرے

Tuesday, 30 March 2021

میں جاگی ہوئی ہوں کہ سوئی ہوئی ہوں

 میں جاگی ہوئی ہوں کہ سوئی ہوئی ہوں

خیالوں کے صحرا میں کھوئی ہوئی ہوں

لبوں پر ہنسی، رخ پہ شبنم کے قطرے

میں کھل کر ہنسی ہوں کہ روئی ہوئی ہوں

نمو کس طرح ہو مری خواہشوں کی

کہ بنجر زمینوں میں بوئی ہوئی ہوں