Thursday, 22 July 2021

ہونٹوں سے دور رکھ کہیں ہونٹوں کا یہ سبو

 ہونٹوں سے دور رکھ کہیں ہونٹوں کا یہ سبو

میں تو خود اپنے آپ سے ہوں محوِ گفتگو

میں خانقاہِ دل میں جلاتی رہی چراغ

اس آس میں کہ تُو ہو کبھی میرے روبرو

اُس نے مِرے خیالوں کو تجسیم کر دیا

وہ جو دکھائی دیتا ہے مجھ کو چہار سو

کرتا ہے وہ یاد کسے، اس سے غرض نہیں

مجھ کو تو ہر گھڑی ہے صدف اس کی جستجو

(ق)

تاریخ کے دیار میں اک میں ہوں ایک تو

اور دونوں ہر مقام پہ موضوعِ گفتگو

تُو ہے شکنتلا کے کہیں انتظار میں

اور میں ہوں کالی داس کے خوابوں کی آبرو

تُو بونواس کوئی، روزینہ کے ہاتھ میں

خیّام کی رباعی سے میری ہوئی نمو

تو مادھو لال کا کوئی نازل شدہ جمال

میں ہیر شہرِ عرش کی، مجھ سے کلامِ ہو

عورت ہوں میں، قلم مِرا چاہت کے واسطے

پروین کی تمنا ہوں، سیفو کی جستجو

یادوں کے رتھ پہ بیٹھ کے شہرِ خیال میں

کرتا ہے کوئی صغرا صدف تیری آرزو


صغرا صدف

صغریٰ صدف

No comments:

Post a Comment