Showing posts with label ندیم اصغر. Show all posts
Showing posts with label ندیم اصغر. Show all posts

Monday, 7 September 2026

اندھیرا جھیل لیتا ہوں ستارے چھوڑ دیتا ہوں

 اندھیرا جھیل لیتا ہوں ستارے چھوڑ دیتا ہوں

میں طوفاں بھانپ کر پھر بھی کنارے چھوڑ دیتا ہوں

مجھے تنہا ہی رہنا ہے کسی سے کچھ نہیں کہنا

جو دل بیزار ہو جائے تو سارے چھوڑ دیتا ہوں

زیادہ دیر دل اک کام میں ٹک کر نہیں لگتا

میں پنجرہ کھول دیتا ہوں غبارے چھوڑ دیتا ہوں

Friday, 26 September 2025

ذرا ٹھہرو مری حالت سنبھل جائے تو پھر جانا

 ذرا ٹھہرو مری حالت سنبھل جائے تو پھر جانا

دل بے تاب تھوڑا سا بہل جائے تو پھر جانا

ابھی تو فرقتوں کے سحر سے نکلا نہیں ہوں میں

تمہارے وصل کا جادو یہ چل جائے تو پھر جانا

جمی ہیں دھڑکنیں تو منجمد ہیں میری سانسیں بھی

بدن میں زندگی تھوڑی مچل جائے تو پھر جانا

Tuesday, 22 April 2025

بس جبلت سے ہی لگتا ہوں درندہ جیسے

 بس جبلت سے ہی لگتا ہوں درندہ جیسے

رزق کرتا ہوں اکٹھا میں پرندہ جیسے

یوں تو میں ایک زمانے سے تھا مردہ یارم

تم کو دیکھا ہے تو لگتا ہوں میں زندہ جیسے

تیرے کوچے میں لیے آس کھڑا ہوں میں یوں

کوئی دفتر میں ہو درخواست دہندہ جیسے

Saturday, 29 May 2021

اس دل سے تیری یاد کے ہالے نہیں گئے

اس دل سے تیری یاد کے ہالے نہیں گئے

تُو جا چکا ہے تیرے اجالے نہیں گئے

برسوں سے ایڑیاں ہی رگڑتے رہے ہیں خواب

تب ہی تو میری آنکھ سے چھالے نہیں گئے

سو بار چھانٹنے کا جتن کر چکا ہوں میں

کچھ لوگ زندگی سے نکالے نہیں گئے

Friday, 23 April 2021

تجھ سے ہرگز بھی عداوت میں نہیں کر سکتا

تجھ سے ہرگز بھی عداوت میں نہیں کر سکتا

اب کسی اور کی چاہت میں نہیں کر سکتا

پڑھ چکا حد سے زیادہ میں نمازیں دکھ کی

اس سے بڑھ کر تو عبادت میں نہیں کر سکتا

دل کو بتخانہ بنا کر میں تجھے سجدے کروں

اپنے رب سے یہ بغاوت میں نہیں کر سکتا