چھیڑا جو عرضِ حال تو سارے نکل گئے
اک ایک کر کے چرخ سے تارے نکل گئے
لوگوں کے دل کو جیتنے آئے تھے، جیت کر
نقشہ زمیں کا جنگ میں ہارے، نکل گئے
مومی مجسمے تھے تپش سے پِگھل گئے
دِیپک چِھڑا تو درد کے مارے نکل گئے
چھیڑا جو عرضِ حال تو سارے نکل گئے
اک ایک کر کے چرخ سے تارے نکل گئے
لوگوں کے دل کو جیتنے آئے تھے، جیت کر
نقشہ زمیں کا جنگ میں ہارے، نکل گئے
مومی مجسمے تھے تپش سے پِگھل گئے
دِیپک چِھڑا تو درد کے مارے نکل گئے
چھیڑا جو عرضِ حال تو سارے نکل گئے
اک ایک کر کے چرخ سے تارے نکل گئے
لوگوں کے دل کو جیتنے آئے تھے جیت کر
نقشہ زمیں کا جنگ میں ہارے، نکل گئے
مومی مجسمے تھے تپش سے پگھل گئے
دیپک چھڑا تو درد کے مارے نکل گئے
اک دردِ کُہن آنکھ سے دھویا نہیں جاتا
جب رنج زیادہ ہو تو رویا نہیں جاتا
مٹ جانے کی خواہش کو مٹایا نہیں کرتے
کھو دینے کے ارمان کو کھویا نہیں جاتا
جلتے ہوئے کھلیان میں اُگتی نہیں فصلیں
خوابوں کو کبھی آگ میں بویا نہیں جاتا
بتوں کی آنکھ میں کیا خواب جھلملاتا ہے
رُکا ہوا ہو جو منظر تو کون آتا ہے
اسی کے لمس سے زندہ نقوش ہیں ہیرے
وہ اپنے ہاتھ سے مُورت میری بناتا ہے
وہ ظرف دیکھ کے دیتا ہے درد چاہت کے
پھر اس کے بعد محبت کو آزماتا ہے
اُدھر کی کوئی خبر ملے
اُدھر کی کوئی خبر ملے تو قرار آئے
نزول ہو مجھ پہ ساعتوں کا
کہ جن میں ملفوف ہو کے تِرا پیام پہنچے
صحیفے اُتریں وہ دل پہ، جن میں
سبب کھلیں وحشتوں کے سارے
اپنی تنہائی سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو
کیا عجب شے ہوں، محبت نہیں ہوتی مجھ کو
اب کوئی بات نئی بات نہیں میرے لیے
اب کسی بات پہ حیرت نہیں ہوتی مجھ کو
دل کا جذبات سے اب کوئی تعلق ہی نہیں
حد تو یہ ہو گئی نفرت نہیں ہوتی مجھ کو
سن
اے ہمدمِ خاص
اے محرمِ راز
اے بے وارثوں کے وارث
شفا ہو، جزا ہو
کرم ہو، بھرم ہو
وگرنہ فکرِ تمنا کہاں نہیں کھُلتی
تمہارے سامنے میری زباں نہیں کھلتی
کہانیاں ہیں فقط حرفِ بد گمانی کی
کہانی دل کی درِِ دُشمناں نہیں کھلتی
عجیب مرحلۂ عشق آن ٹھہرا ہے
جبینِ صبر سرِ آستاں نہیں کھلتی
وہ تجدیدِ وفا کی کیا گھڑی تھی
مِری توبہ مِرے آگے کھڑی تھی
قدم اُٹھتے نہیں تھے تیرے گھر کو
عجب مشکل سی مجھ پہ آ پڑی تھی
انگوٹھی میں خلا دُکھ درد کا تھا
نگینہ بن کے اس میں میں جَڑی تھی
خوشبوؤں کے نزول جیسا تھا
وہ جو اک شخص پھول جیسا تھا
ہم زمانے کو لے کے کیا کرتے
اس کے قدموں کی دھول جیسا تھا
میں اسے بھول ہی نہیں پاتی
وہ مِری پہلی بھول جیسا تھا