Showing posts with label صوفیہ بیدار. Show all posts
Showing posts with label صوفیہ بیدار. Show all posts

Thursday, 19 October 2023

چھیڑا جو عرض حال تو سارے نکل گئے

 چھیڑا جو عرضِ حال تو سارے نکل گئے

اک ایک کر کے چرخ سے تارے نکل گئے

لوگوں کے دل کو جیتنے آئے تھے، جیت کر

نقشہ زمیں کا جنگ میں ہارے، نکل گئے

مومی مجسمے تھے تپش سے پِگھل گئے

دِیپک چِھڑا تو درد کے مارے نکل گئے

Thursday, 14 September 2023

چھیڑا جو عرض حال تو سارے نکل گئے

 چھیڑا جو عرضِ حال تو سارے نکل گئے

اک ایک کر کے چرخ سے تارے نکل گئے

لوگوں کے دل کو جیتنے آئے تھے جیت کر

نقشہ زمیں کا جنگ میں ہارے، نکل گئے

مومی مجسمے تھے تپش سے پگھل گئے

دیپک چھڑا تو درد کے مارے نکل گئے

Wednesday, 2 June 2021

اک درد کہن آنکھ سے دھویا نہیں جاتا

 اک دردِ کُہن آنکھ سے دھویا نہیں جاتا

جب رنج زیادہ ہو تو رویا نہیں جاتا

مٹ جانے کی خواہش کو مٹایا نہیں کرتے

کھو دینے کے ارمان کو کھویا نہیں جاتا

جلتے ہوئے کھلیان میں اُگتی نہیں فصلیں

خوابوں کو کبھی آگ میں بویا نہیں جاتا

بتوں کی آنکھ میں کیا خواب جھلملاتا ہے

 بتوں کی آنکھ میں کیا خواب جھلملاتا ہے

رُکا ہوا ہو جو منظر تو کون آتا ہے

اسی کے لمس سے زندہ نقوش ہیں ہیرے

وہ اپنے ہاتھ سے مُورت میری بناتا ہے

وہ ظرف دیکھ کے دیتا ہے درد چاہت کے

پھر اس کے بعد محبت کو آزماتا ہے

Tuesday, 1 June 2021

ادھر کی کوئی خبر ملے تو قرار آئے

 اُدھر کی کوئی خبر ملے


اُدھر کی کوئی خبر ملے تو قرار آئے

نزول ہو مجھ پہ ساعتوں کا

کہ جن میں ملفوف ہو کے تِرا پیام پہنچے

صحیفے اُتریں وہ دل پہ، جن میں

سبب کھلیں وحشتوں کے سارے

اپنی تنہائی سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو

 اپنی تنہائی سے وحشت نہیں ہوتی مجھ کو

کیا عجب شے ہوں، محبت نہیں ہوتی مجھ کو

اب کوئی بات نئی بات نہیں میرے لیے

اب کسی بات پہ حیرت نہیں ہوتی مجھ کو

دل کا جذبات سے اب کوئی تعلق ہی نہیں

حد تو یہ ہو گئی نفرت نہیں ہوتی مجھ کو 

Monday, 31 May 2021

سن اے ہمدم خاص

 سن

اے ہمدمِ خاص

اے محرمِ راز

اے بے وارثوں کے وارث

شفا ہو، جزا ہو

کرم ہو، بھرم ہو

Sunday, 30 May 2021

وگرنہ فکر تمنا کہاں نہیں کھلتی

 وگرنہ فکرِ تمنا کہاں نہیں کھُلتی

تمہارے سامنے میری زباں نہیں کھلتی

کہانیاں ہیں فقط حرفِ بد گمانی کی

کہانی دل کی درِِ دُشمناں نہیں کھلتی

عجیب مرحلۂ عشق آن ٹھہرا ہے

جبینِ صبر سرِ آستاں نہیں کھلتی

وہ تجدید وفا کی کیا گھڑی تھی

 وہ تجدیدِ وفا کی کیا گھڑی تھی

مِری توبہ مِرے آگے کھڑی تھی

قدم اُٹھتے نہیں تھے تیرے گھر کو

عجب مشکل سی مجھ پہ آ پڑی تھی

انگوٹھی میں خلا دُکھ درد کا تھا

نگینہ بن کے اس میں میں جَڑی تھی

Wednesday, 24 March 2021

خوشبوؤں کے نزول جیسا تھا

 خوشبوؤں کے نزول جیسا تھا

وہ جو اک شخص پھول جیسا تھا

ہم زمانے کو لے کے کیا کرتے

اس کے قدموں کی دھول جیسا تھا

میں اسے بھول ہی نہیں پاتی

وہ مِری پہلی بھول جیسا تھا