Showing posts with label حنیف سمانا. Show all posts
Showing posts with label حنیف سمانا. Show all posts

Wednesday, 23 September 2020

حسن کیا ہے یہ یار کی چیز ہے

 حسن کیا ہے؟ یہ یار کی چیز ہے

عشق کیا ہے؟ یہ بے کار کی چیز ہے

ہجر کیا ہے؟ یہ نقد ہے، ارزاں ہے

وصل کیا ہے؟ یہ ادھار کی چیز ہے

دل کیا ہے؟ یہ گھائل ہے تِری آنکھوں سے

آنکھ کیا ہے؟ یہ وار کی چیز ہے

Sunday, 6 September 2020

مجھ پہ کھلتا نہیں یہ عقدہ ہے

مجھ پہ کھلتا نہیں یہ عقدہ ہے
موت منزل ہے یا کہ رستہ ہے
ہاتھ باندھوں کہ ہاتھ چھوڑوں میں
میرا مقصد تو اس کو سجدہ ہے
تم نئے دوست ہو، مگر جانو
دل کا دل سے پرانا رشتہ ہے

جانچنے پرکھنے کی صدی ہے

جانچنے پرکھنے کی صدی ہے

میرے باپ دادا سایوں کے پیچھے بھاگتے تھے
میں کیوں بھاگوں؟
وہ عقیدتوں اور روایتوں کے تالابوں میں ڈبکیاں لگاتے تھے
میں کیوں لگاؤں؟
وہ جو سوالات سوچنے سے ڈرتے تھے

Saturday, 18 July 2020

خوشیاں نہ دے سکے تو مجھے پھر اداس کر

یوں اس طرح نہ دل کا میرے ستیاناس کر
برسوں کی آشنائی ہے تھوڑا سا پاس کر
جو پھول نہ مار پائے تو، گملا ہی مار دے
خوشیاں نہ دے سکے تو مجھے پھر اداس کر
شوہر مجھے بنا نہ بنا،۔ اتنا کام کر
بہنوں کو میری نند بنا، ماں کو ساس کر

اللہ سے تھوڑا بہت تو تعلق

تعلق

اللہ سے تھوڑا بہت تو تعلق رکھا کرو
بالکل منقطع مت کیا کرو
ضرورت پڑتی رہتی ہے
مصیبت آئی تو پھر کس کو پکارو گے
وہی کام آئے گا نا؟

Saturday, 17 February 2018

عقل والوں کی صحبتیں بے سود

مضطرب دل کی حسرتیں بے سود
ہم غریبوں کی خواہشیں بے سود
عشق میں صرف جنوں ہی کام آئے
فلسفہ، عقل، منطقیں، بے سود
خواب میں تم تھے کل کسی کے ساتھ
میری ساری وضاحتیں بے سود

نمازوں میں ریاکاری نہ کرنا

نمازوں میں ریاکاری نہ کرنا
ادا کرنا،۔۔ اداکاری نہ کرنا
تکبر، سخت رب کو ناپسند ہے
اسے خود پر کبھی طاری نہ کرنا
تمہارے عیب سب، رب جانتا ہے
کسی مظلوم کو "کاری" نہ کرنا

دل میں کوئی ہمدرد رہتا ہے

دل میں کوئی ہمدرد رہتا ہے
اس کے باعث ہی درد رہتا ہے
ساری گرمی تمہارے دَم سے تھی
دل کا موسم اب سرد رہتا ہے
میرے سر کی قسم نہ کھایا کرو
اس میں پہلے ہی درد رہتا ہے

Saturday, 23 November 2013

آ میرے دوست محبت میں ہر اک بات بھلا

آ میرے دوست محبت میں ہر اِک بات بھلا
رنگ بھلا، نسل بھلا، قوم بھلا، ذات بھلا
میں تو کوشش میں ہوں کہ بھولوں تِرے جوروستم
تجھ سے ہو پائے تو تُو میری عِنایات بھلا
اے جنوں رہنے دے کچھ روز مجھے ہَستی میں
میں تجھے بھول چکا، تُو بھی میری ذات بھلا

شہرت تو نہ تھی اتنی ترے ناز و ادا کی

شہرت تو نہ تھی اِتنی تِرے ناز و ادا کی
جِتنی ہوئی تشہیر میرے جرمِ وفا کی
گم تھے میرے نامے میں فرشتے سرِ محشر
رحمٰن نے چپکے سے بہشت مجھ کو عطا کی
ہو میل ہمارا بھلا کیوں حَشر سے پہلے
تُو خلد کی حور اور میں اِک آدمِ خاکی

Saturday, 2 November 2013

میرا فرقہ آج ایک نیا فرقہ بناتے ہیں

میرا فرقہ 

آؤ
آج ایک نیا فرقہ بناتے ہیں
ان ٹھکرائے ہوئے لوگوں کا
ان مُرجھائے ہوئے چہروں کا
وہ جو زمیں پر ایڑیاں رگڑ رگڑ کے جی رہے ہیں