Saturday, 18 July 2020

خوشیاں نہ دے سکے تو مجھے پھر اداس کر

یوں اس طرح نہ دل کا میرے ستیاناس کر
برسوں کی آشنائی ہے تھوڑا سا پاس کر
جو پھول نہ مار پائے تو، گملا ہی مار دے
خوشیاں نہ دے سکے تو مجھے پھر اداس کر
شوہر مجھے بنا نہ بنا،۔ اتنا کام کر
بہنوں کو میری نند بنا، ماں کو ساس کر
رکھا یہا ں پہ کیا ہے، جو آتا میں دیکھنے
تیرے لیے ہی دنیا میں آیا ہوں خاص کر
حنیف اس قدر نہ چڑھا ان کو اپنے سر
رہنے دے تھوڑا فاصلہ، حد نہ کراس کر

حنیف سمانا

No comments:

Post a Comment