یوں اس طرح نہ دل کا میرے ستیاناس کر
برسوں کی آشنائی ہے تھوڑا سا پاس کر
جو پھول نہ مار پائے تو، گملا ہی مار دے
خوشیاں نہ دے سکے تو مجھے پھر اداس کر
شوہر مجھے بنا نہ بنا،۔ اتنا کام کر
رکھا یہا ں پہ کیا ہے، جو آتا میں دیکھنے
تیرے لیے ہی دنیا میں آیا ہوں خاص کر
حنیف اس قدر نہ چڑھا ان کو اپنے سر
رہنے دے تھوڑا فاصلہ، حد نہ کراس کر
حنیف سمانا
No comments:
Post a Comment