بس ایسے ملے کہ
جدا ہو گئے ہم
جدا ہو کر پھر ہم
شجر میں کھلے یوں
کنارے بھی کئی
ندی کے پھر دیکھے
بس ایسے ملے کہ
جدا ہو گئے ہم
جدا ہو کر پھر ہم
شجر میں کھلے یوں
کنارے بھی کئی
ندی کے پھر دیکھے
سب کچھ ہو بس ضرور، مگر پیار چاہیے
مئے کا بھلا سرور مگر پیار چاہیے
ایمان و دین ہو گا، دوزخ اور جنتیں
خالص خدا کا نور مگر پیار چاہیے
اولاد، کام اور یہ غم روزگار کے
ہاں ہاں یہ ہو حضور مگر پیار چاہیے
حسن درس سندھی شاعری اردو ترجمہ
کولھیوں کے ساتھ کولھی ہو جاؤں
ہاں ہاں ہاں میں ہولی ہو جاؤں
سنجھا کے وقت وہ سارے کولہی
ٹھہرے کے مٹکے کھولتے ہیں
گردن کے زنجیر اتارتے ہیں
صدیوں کے درد گاتے ہیں
سندھی شاعری سے اردو ترجمہ
شاعری کے ديس میں
زندگی کے ساز پر
موت کی گمبھیر دُھن
لوگ سُنتے جا رہے
اور ازل خانے سے یہ
ناز اور انداز سب