آج کا کرب تو کچھ اور بھی بڑھ کر نکلا
میرا ماضی ہی مِرے حال سے بہتر نکلا
سائے کی طرح جو رہتا تھا مِرے ساتھ کبھی
آج تو وہ مِرے سائے سے بھی بچ کر نکلا
میں تو سمجھا تھا کفن اوڑھ لیا سبزے نے
برف پگھلی تو وہ کچھ اور نکھر کر نکلا
وقت کی گرد نے ہر زخم چُھپایا، لیکن
دل پہ اک نقش بہر کیف اُجاگر نکلا
دُور رہ کر جو بُلندی پہ نظر آتا تھا
پاس آیا تو وہ میرے ہی برابر نکلا
احسن رضوی
No comments:
Post a Comment