سائباں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے
آسماں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے
میری آنکھوں میں نمی ہے تیری آنکھوں کی طرح
کیوں جہاں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے
شہر کے پکے مکاں میں روشنی کی لہر سے
اک مکاں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے
تو جو میرے سنگ تھا تو بارشوں کی دُھوم تھی
اب سماں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے
آگ آخر آگ ہے یہ جانتا ہوں دوستو
کیوں دُھواں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے
میں نے اعظم ناخدا سے کہہ دیا کہ فکر کر
بادباں جلتا ہوا محسوس ہوتا ہے مجھے
اعظم کمال
No comments:
Post a Comment