Tuesday, 7 July 2026

وہ جو دن ہجر یار میں گزرے

 وہ جو دن ہجر یار میں گُزرے 

کچھ تڑپ کچھ قرار میں گزرے 

وہی حاصل تھے زندگانی کے 

چار دن جو بہار میں گزرے 

کیا کیا تم سے کیسے کیسے وہم 

دلِ بے اعتبار میں گزرے 

کتنی کلیوں کے کتنے پھولوں کے 

قافلے نو بہار میں گزرے 

زندگی کے لیے ملے تھے جو دن 

موت کے انتظار میں گزرے 

حسرتوں کے ہجوم میں تِری یاد 

جیسے محمل غبار میں گزرے 

ہم چمن میں رہے تو ایسے رہے 

جیسے دن خار زار میں گزرے 

غمِ جاناں سے بچ رہے تھے جو دن 

وہ غمِ روزگار میں گزرے 

زندگی کی یہی تمنا تھی 

آپ کی رہگزار میں گزرے 

جاں نثاروں کا جائزہ تھا وہاں 

ہم بھی پچھلی قطار میں گزرے 

کاٹے کٹتا نہیں وہ وقت رضا 

جو کسی انتظار میں گزرے


امیر رضا مظہری

No comments:

Post a Comment