دل و نظر میں تِرے روپ کو بساتا ہوا
تِری گلی سے گزرتا ہوں جگمگاتا ہوا
غزل کے پھول مِرے ذہن میں مہکتے ہوئے
تِرا خیال مجھے رات بھر جگاتا ہوا
وہ بارگاہِ ادب ہے عقیدتوں کی جگہ
میں اس گلی سے کیوں گزروں گا خاک اڑاتا ہوا
دل و نظر میں تِرے روپ کو بساتا ہوا
تِری گلی سے گزرتا ہوں جگمگاتا ہوا
غزل کے پھول مِرے ذہن میں مہکتے ہوئے
تِرا خیال مجھے رات بھر جگاتا ہوا
وہ بارگاہِ ادب ہے عقیدتوں کی جگہ
میں اس گلی سے کیوں گزروں گا خاک اڑاتا ہوا
تِرے کوچے میں جو بیٹھا ہے پاگل
وہ دل سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے پاگل
تصور میں تمہارا ساتھ پا کر
لو اپنے ہوش کھو بیٹھا ہے پاگل
تِری خوشبو جدھر کو جا رہی ہے
اسی جانب ہی تو بیٹھا ہے پاگل
آنکھوں کی دہلیز پے آ کر بیٹھ گئی
تیری صورت خواب سجا کر بیٹھ گئی
کل تیری تصویر مکمل کی میں نے
فوراً اس پر تتلی آ کر بیٹھ گئی
تانا بانا بُنتے بُنتے ہم اُدھڑے
حسرت پھر تھک کر غش کھا کر بیٹھ گئی
بجھے ہو، ہاتھ مایوسی لگی ہے کیا
درِ الفت پہ اب کُنڈی لگی ہے کیا
ابھی بھی تجھ درِ دل پر بتا جاناں
ہمارے نام کی تختی لگی ہے کیا
سمندر بوکھلایا پھر رہا ہے کیوں
کنارے پھر کوئی کشتی لگی ہے کیا
رشتہ بحال کاش پھر اُس کی گلی سے ہو
جی چاہتا ہے عشق دوبارہ اُسی سے ہو
انجام جو بھی ہو مجھے اس کی نہیں ہے فکر
آغاز داستانِ سفر آپ ہی سے ہو
خواہش ہے پہنچوں عشق کے میں اُس مقام پر
جب ان کا سامنا مِری دیوانگی سے ہو