Showing posts with label ارشاد سکندر. Show all posts
Showing posts with label ارشاد سکندر. Show all posts

Friday, 23 September 2022

دل و نظر میں ترے روپ کو بساتا ہوا

 دل و نظر میں تِرے روپ کو بساتا ہوا

تِری گلی سے گزرتا ہوں جگمگاتا ہوا

غزل کے پھول مِرے ذہن میں مہکتے ہوئے

تِرا خیال مجھے رات بھر جگاتا ہوا

وہ بارگاہِ ادب ہے عقیدتوں کی جگہ

میں اس گلی سے کیوں گزروں گا خاک اڑاتا ہوا

Tuesday, 13 September 2022

ترے کوچے میں جو بیٹھا ہے پاگل

 تِرے کوچے میں جو بیٹھا ہے پاگل

وہ دل سے ہاتھ دھو بیٹھا ہے پاگل

تصور میں تمہارا ساتھ پا کر

لو اپنے ہوش کھو بیٹھا ہے پاگل

تِری خوشبو جدھر کو جا رہی ہے

اسی جانب ہی تو بیٹھا ہے پاگل

Monday, 12 September 2022

آنکھوں کی دہلیز پہ آ کر بیٹھ گئی

 آنکھوں کی دہلیز پے آ کر بیٹھ گئی

تیری صورت خواب سجا کر بیٹھ گئی

کل تیری تصویر مکمل کی میں نے

فوراً اس پر تتلی آ کر بیٹھ گئی

تانا بانا بُنتے بُنتے ہم اُدھڑے

حسرت پھر تھک کر غش کھا کر بیٹھ گئی

Sunday, 11 September 2022

بجھے ہو ہاتھ مایوسی لگی ہے کیا

 بجھے ہو، ہاتھ مایوسی لگی ہے کیا

درِ الفت پہ اب کُنڈی لگی ہے کیا

ابھی بھی تجھ درِ دل پر بتا جاناں

ہمارے نام کی تختی لگی ہے کیا

سمندر بوکھلایا پھر رہا ہے کیوں

کنارے پھر کوئی کشتی لگی ہے کیا

Friday, 2 April 2021

رشتہ بحال کاش پھر اس کی گلی سے ہو

 رشتہ بحال کاش پھر اُس کی گلی سے ہو

جی چاہتا ہے عشق دوبارہ اُسی سے ہو

انجام جو بھی ہو مجھے اس کی نہیں ہے فکر

آغاز داستانِ سفر آپ ہی سے ہو

خواہش ہے پہنچوں عشق کے میں اُس مقام پر

جب ان کا سامنا مِری دیوانگی سے ہو