عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہوئی قبول مِری ہر دُعا مدینے میں
میں کیا بتاؤں کہ کیا کیا ملا مدینے میں
میں مانتا ہوں کہ کعبے کی شان ہے
اپنی مگر یہ سچ ہے بڑا دل لگا مدینے میں
میں ایک شام مدینے میں دیکھ آیا ہوں
بڑے ادب سے ہے چلتی ہوا مدینے میں
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
ہوئی قبول مِری ہر دُعا مدینے میں
میں کیا بتاؤں کہ کیا کیا ملا مدینے میں
میں مانتا ہوں کہ کعبے کی شان ہے
اپنی مگر یہ سچ ہے بڑا دل لگا مدینے میں
میں ایک شام مدینے میں دیکھ آیا ہوں
بڑے ادب سے ہے چلتی ہوا مدینے میں
تمام شہر کو جو سچ ہوا بتاؤں گا
پھر اس کی جتنی بھی قیمت ہوئی چکاؤں گا
میں ہجر والوں کا اک قافلہ بناؤں گا
تمہارے بعد بھی جی کر تمہیں دکھاؤں گا
جنہوں نے مل کے مرے ہاتھ کاٹ ڈالے ہیں
انہیں یہ ڈر تھا کہ میں آئینہ بناؤں گا
اک سرِ دیوار پنچھی بیٹھ کر، سمجھا گیا
وہ مِرا گھر ہی نہیں تھا جس کو گھر سمجھا گیا
شہرِ نابینا میں ہی سب آئینے بیچے گئے
معتبر تھا کون، کس کو معتبر سمجھا گیا
بات تو کچھ بھی نہیں تھی، جس قدر سمجھی گئی
کیا اِدھر سمجھا گیا تھا، کیا اُدھر سمجھا گیا
رات بھر درد بھری رات ہمیں کاٹتی ہے
وہ ہے تنہائی کہ برسات ہمیں کاٹتی ہے
تم جو کہتے ہو کہ بس رات گئی بات گئی
تم کو معلوم ہے یہ بات ہمیں کاٹتی ہے
اس نے سمجھا ہی نہیں وصل کا مطلب کیا ہے
اجنبی بن کے ملاقات ہمیں کاٹتی ہے
یہ جو وحشت ہے عقیدت بھی تو ہو سکتی ہے
میری یکطرفہ محبت بھی تو ہو سکتی ہے
ٹال دیتے ہو یوں ہی ہنس کے مِری باتوں کو
میری باتوں میں حقیقت بھی تو ہو سکتی ہے
بس یہی سوچ کے مندر میں نہیں جاتا میں
کوئی مُورت تِری صُورت بھی تو ہو سکتی ہے
کسی کے تلخ لہجے سے بھی رنجیدہ نہیں ہوتا
میں غم دل پر نہیں لیتا، سو نمدیدہ نہیں ہوتا
یہ میں ہی تھا کہ پتھر کو بدل ڈالا ہے پارس میں
وہ کیا ہوتا؟ اگر میرا تراشیدہ نہیں ہوتا
ہے دل میں وہ طلسمِ رنگِ رخسار و لبِ جاناں
کوئی بھی پھول دیکھوں تو میں گرویدہ نہیں ہوتا
چل سکتا تھا جتنا وہ مِرے ساتھ چلا خیر
غم یہ ہے کہ اک مان تھا جو ٹوٹ گیا، خیر
میں جھیل گیا جو بھی ہوا جیسے ہوا خیر
لیکن ہے تِرے واسطے بس دل سے دعا خیر
اک عمر لگی تب یہ کہیں مجھ پہ کھلا راز
مانگو جو اگر خیر تو کرتا ہے خدا خیر
وہی ہے زندگی جو ایک پل محبت ہے
مگر میں کیا کہوں جو آج کل محبت ہے
ڈرا رہا ہے مجھے کیا زمانے والوں سے
میں سب کہ سامنے کہتا ہوں چل محبت ہے
جہاں جہاں سے چاہو دوائیں لیتے پھرو
تمہیں جو مسئلہ ہے اس کا حل محبت ہے
وہ جب ملے تھے محبت یہ تب سے تھوڑی ہے
جنم جنم کا تعلق ہے اب سے تھوڑی ہے
ہماری جو بھی ہے نسبت تمھاری ذات سے ہے
تمہارے منصب نام و نسب سے تھوڑی ہے
عجیب لوگ ہیں وجہیں تلاش کرتے ہیں
بھلا یہ عشق کسی بھی سبب سے تھوڑی ہے
زندگی ہم نے کیے تجھ سے گزارے جیسے
ڈھونڈ پائے، تو کبھی ڈھونڈ ہمارے جیسے
میرے معبود تجھے تجھ سے میں یوں مانگتا ہوں
کوئی بچہ سا کسی ماں کو پکارے جیسے
کرچیاں چنتے ہوئے عمر گزر جاتی ہے
کوئی دیکھے تو سہی خواب ہمارے جیسے
شہر کا شہر جب رہا خاموش
ایک میں ہی نہ رہ سکا خاموش
اس کی دہلیز نے کہا؛ خاموش
عشق دیتا نہیں صدا، خاموش
لوگ الزام دے رہے تھے مجھے
اور سن کر بھی تُو رہا خاموش
خواب میں تجھ سے ملاقات کیا کرتے ہیں
آنکھ کھلتی ہے تو خیرات کیا کرتے ہیں
ہم تجھے کیسے بتائیں کہ تِرے بارے میں
لوگ جو ہم سے سوالات کیا کرتے ہیں
ہمہ تن گوش نہیں دل سے سنی جاتی ہے
لوگ جب ان کی کوئی بات کیا کرتے ہیں