Showing posts with label صغیر احمد. Show all posts
Showing posts with label صغیر احمد. Show all posts

Thursday, 10 July 2025

ہوئی قبول مری ہر دعا مدینے میں

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


ہوئی قبول مِری ہر دُعا مدینے میں

میں کیا بتاؤں کہ کیا کیا ملا مدینے میں

میں مانتا ہوں کہ کعبے کی شان ہے

اپنی مگر یہ سچ ہے بڑا دل لگا مدینے میں

میں ایک شام مدینے میں دیکھ آیا ہوں

بڑے ادب سے ہے چلتی ہوا مدینے میں

Saturday, 13 July 2024

تمام شہر کو جو سچ ہوا بتاؤں گا

 تمام شہر کو جو سچ  ہوا بتاؤں گا

پھر اس کی جتنی بھی قیمت ہوئی چکاؤں گا

میں ہجر والوں کا اک قافلہ بناؤں گا 

تمہارے بعد بھی جی کر تمہیں دکھاؤں گا 

جنہوں نے مل کے مرے ہاتھ کاٹ ڈالے ہیں 

انہیں یہ ڈر تھا کہ میں آئینہ بناؤں گا

Tuesday, 11 April 2023

اک سر دیوار پنچھی بیٹھ کر سمجھا گیا

 اک سرِ دیوار پنچھی بیٹھ کر، سمجھا گیا

وہ مِرا گھر ہی نہیں تھا جس کو گھر سمجھا گیا

شہرِ نابینا میں ہی سب آئینے بیچے گئے

معتبر تھا کون، کس کو معتبر سمجھا گیا 

بات تو کچھ بھی نہیں تھی، جس قدر سمجھی گئی

کیا اِدھر سمجھا گیا تھا، کیا اُدھر سمجھا گیا

Saturday, 5 November 2022

رات بھر درد بھری رات ہمیں کاٹتی ہے

 رات بھر درد بھری رات ہمیں کاٹتی ہے

وہ ہے تنہائی کہ برسات ہمیں کاٹتی ہے

تم جو کہتے ہو کہ بس رات گئی بات گئی

تم کو معلوم ہے یہ بات ہمیں کاٹتی ہے

اس نے سمجھا ہی نہیں وصل کا مطلب کیا ہے

اجنبی بن کے ملاقات ہمیں کاٹتی ہے

Saturday, 18 June 2022

یہ جو وحشت ہے عقیدت بھی تو ہو سکتی ہے

 یہ جو وحشت ہے عقیدت بھی تو ہو سکتی ہے

میری یکطرفہ محبت بھی تو ہو سکتی ہے

ٹال دیتے ہو یوں ہی ہنس کے مِری باتوں کو

میری باتوں میں حقیقت بھی تو ہو سکتی ہے

بس یہی سوچ کے مندر میں نہیں جاتا میں

کوئی مُورت تِری صُورت بھی تو ہو سکتی ہے

Friday, 10 June 2022

کسی کے تلخ لہجے سے بھی رنجیدہ نہیں ہوتا

 کسی کے تلخ لہجے سے بھی رنجیدہ نہیں ہوتا

میں غم دل پر نہیں لیتا، سو نمدیدہ نہیں ہوتا

یہ میں ہی تھا کہ پتھر کو بدل ڈالا ہے پارس میں

وہ کیا ہوتا؟ اگر میرا تراشیدہ نہیں ہوتا

ہے دل میں وہ طلسمِ رنگِ رخسار و لبِ جاناں

کوئی بھی پھول دیکھوں تو میں گرویدہ نہیں ہوتا

Saturday, 13 March 2021

چل سکتا تھا جتنا وہ مرے ساتھ چلا خیر

 چل سکتا تھا جتنا وہ مِرے ساتھ چلا خیر

غم یہ ہے کہ اک مان تھا جو ٹوٹ گیا، خیر

میں جھیل گیا جو بھی ہوا جیسے ہوا خیر

لیکن ہے تِرے واسطے بس دل سے دعا خیر

اک عمر لگی تب یہ کہیں مجھ پہ کھلا راز

مانگو جو اگر خیر تو کرتا ہے خدا خیر

Friday, 8 January 2021

وہی ہے زندگی جو ایک پل محبت ہے

 وہی ہے زندگی جو ایک پل محبت ہے

مگر میں کیا کہوں جو آج کل محبت ہے

ڈرا رہا ہے مجھے کیا زمانے والوں سے

میں سب کہ سامنے کہتا ہوں چل محبت ہے

جہاں جہاں سے چاہو دوائیں لیتے پھرو

تمہیں جو مسئلہ ہے اس کا حل محبت ہے

Thursday, 7 January 2021

وہ جب ملے تھے محبت یہ تب سے تھوڑی ہے

 وہ جب ملے تھے محبت یہ تب سے تھوڑی ہے

جنم جنم کا تعلق ہے اب سے تھوڑی ہے 

ہماری جو بھی ہے نسبت تمھاری ذات سے ہے

تمہارے منصب نام و نسب سے تھوڑی ہے

عجیب لوگ ہیں وجہیں تلاش کرتے ہیں

بھلا یہ عشق کسی بھی سبب سے تھوڑی ہے

Sunday, 3 January 2021

زندگی ہم نے کیے تجھ سے گزارے جیسے

 زندگی ہم نے کیے تجھ سے گزارے جیسے

ڈھونڈ پائے، تو کبھی ڈھونڈ ہمارے جیسے

میرے معبود تجھے تجھ سے میں یوں مانگتا ہوں

کوئی بچہ سا کسی ماں کو پکارے جیسے

کرچیاں چنتے ہوئے عمر گزر جاتی ہے

کوئی دیکھے تو سہی خواب ہمارے جیسے

Saturday, 2 January 2021

شہر کا شہر جب رہا خاموش

 شہر کا شہر جب رہا خاموش

ایک میں ہی نہ رہ سکا خاموش

اس کی دہلیز نے کہا؛ خاموش

عشق دیتا نہیں صدا، خاموش

لوگ الزام دے رہے تھے مجھے

اور سن کر بھی تُو رہا خاموش

Friday, 1 January 2021

خواب میں تجھ سے ملاقات کیا کرتے ہیں

 خواب میں تجھ سے ملاقات کیا کرتے ہیں

آنکھ کھلتی ہے تو خیرات کیا کرتے ہیں

ہم تجھے کیسے بتائیں کہ تِرے بارے میں

لوگ جو ہم سے سوالات کیا کرتے ہیں

ہمہ تن گوش نہیں دل سے سنی جاتی ہے

لوگ جب ان کی کوئی بات کیا کرتے ہیں