Sunday, 3 January 2021

زندگی ہم نے کیے تجھ سے گزارے جیسے

 زندگی ہم نے کیے تجھ سے گزارے جیسے

ڈھونڈ پائے، تو کبھی ڈھونڈ ہمارے جیسے

میرے معبود تجھے تجھ سے میں یوں مانگتا ہوں

کوئی بچہ سا کسی ماں کو پکارے جیسے

کرچیاں چنتے ہوئے عمر گزر جاتی ہے

کوئی دیکھے تو سہی خواب ہمارے جیسے

تُو نے شہ خرچ کوئی ہم سا کبھی دیکھا ہے

خواب در خواب تِرے نام پہ وارے جیسے

ہم تِرے ساتھ رہے تجھ سے جدا بھی لیکن

ساتھ چلتے ہوئے دریا کے کنارے جیسے

ہائے، دنیا میں صغیر ایسے کوئی ہارتا ہے

جانتے بوجھتے ہم جیت کے ہارے جیسے


صغیر احمد صغیر

صغیر احمد احسنی

No comments:

Post a Comment