بڑا حوصلہ نوجوانوں میں تھا
بسیرا تو کچے مکانوں میں تھا
وہ رہتا مگر آسمانوں میں تھا
لہو کی تڑپ آسمانوں میں تھی
مزا زندگی کا اڑانوں میں تھا
مِری بات کیوں قتل گاہوں میں ہے
مِرا ذکر تو مہربانوں میں تھا
اسی ایک احساس میں لٹ گیا
کہ وہ شخص بھی پاسبانوں میں تھا
سفینہ تھا موجِ بلا آشنا
ہواؤں کا رخ بادبانوں میں تھا
مختار شمیم
حرف حرف آئینہ
No comments:
Post a Comment