Sunday, 3 January 2021

بڑا حوصلہ نوجوانوں میں تھا

 بڑا حوصلہ نوجوانوں میں تھا

بسیرا تو کچے مکانوں میں تھا

وہ رہتا مگر آسمانوں میں تھا

لہو کی تڑپ آسمانوں میں تھی

مزا زندگی کا اڑانوں میں تھا

مِری بات کیوں قتل گاہوں میں ہے

مِرا ذکر تو مہربانوں میں تھا

اسی ایک احساس میں لٹ گیا

کہ وہ شخص بھی پاسبانوں میں تھا

سفینہ تھا موجِ بلا آشنا

ہواؤں کا رخ بادبانوں میں تھا


مختار شمیم


حرف حرف آئینہ

No comments:

Post a Comment