Sunday, 3 January 2021

رات رہتی نہیں اس لیے دھیان میں

 رات رہتی نہیں اس لیے دھیان میں

نیند رکھی نہیں میں نے امکان میں

آنکھ سے جھَڑ گئی ہیں شناسائیاں

یا خلل پڑ گیا تیری پہچان میں

یاد آئی تو محسوس خود کو کیا

جیسے آ جاتی ہے جان سی جان میں

تب ہمیں سانس لینے کی فرصت ملی

بھر گیا جب دھواں جسم کی کان میں

پھول مرجھا گئے روشنی بجھ گئی

اور کیا رہ گیا تیری دُکان میں

اس قدر رکھ چکا ہوں اداسی منیر

خواب آتے نہیں اب تو سامان میں


منیر جعفری

No comments:

Post a Comment