رات رہتی نہیں اس لیے دھیان میں
نیند رکھی نہیں میں نے امکان میں
آنکھ سے جھَڑ گئی ہیں شناسائیاں
یا خلل پڑ گیا تیری پہچان میں
یاد آئی تو محسوس خود کو کیا
جیسے آ جاتی ہے جان سی جان میں
تب ہمیں سانس لینے کی فرصت ملی
بھر گیا جب دھواں جسم کی کان میں
پھول مرجھا گئے روشنی بجھ گئی
اور کیا رہ گیا تیری دُکان میں
اس قدر رکھ چکا ہوں اداسی منیر
خواب آتے نہیں اب تو سامان میں
منیر جعفری
No comments:
Post a Comment