عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قالو بلی٭ سے آج تک اعلانِ نعت ہے
امکان کی یہ بزم تو ایوان نعت ہے
یٰسین نعت، سورۂ رحمان نعت ہے
الحمد نعت، سورۂ عمران نعت ہے
عرفان نعت حق کی عطا پر ہے منحصر
آنکھیں ملیں تو پورا ہی قرآن نعت ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
قالو بلی٭ سے آج تک اعلانِ نعت ہے
امکان کی یہ بزم تو ایوان نعت ہے
یٰسین نعت، سورۂ رحمان نعت ہے
الحمد نعت، سورۂ عمران نعت ہے
عرفان نعت حق کی عطا پر ہے منحصر
آنکھیں ملیں تو پورا ہی قرآن نعت ہے
ایسے نہ دیکھ گُھور کے نا یوں جبیں چڑھا
اب چُوڑیاں اتار، نہ یوں آستیں چڑھا
لب ہائے احمریں پہ یہ تُرشی نہیں بھلی
نصرت کا لب پہ نغمۂ دل آفریں چڑھا
ہے جو ہوا کی دوش پہ چادر کو چھوڑ دے
بالوں میں پُھول ڈال کے چُنری حسیں چڑھا
صورت بنائیے کوئی تازہ وصال کی
حاجت ہے زخم ہجر کو اب اندمال کی
اک زخم ہوں جو زخم ہے تازہ شکست کا
خنکی سے پھٹ رہا ہے جو باد شمال کی
خواہش خرد کے پاؤں پکڑتی ہے بار بار
ہے ملتمس کہ لائیے صورت وصال کی
حلول کر نہیں سکتا تو پھر حلاوت دے
مجھے طواف نہیں وصل کی سہولت دے
مدار< قید ہے گردش سے تنگ آ گیا ہوں
طواف چھوڑ کے آؤں مجھے اجازت دے
درشت لہجے میں خود سے کلام کر یارم
لذیذ لہجے سے خود کو بھی تھوڑی لذت دے
تھوڑی سی پی تو تھوڑی طبیعت سنبھل گئی
خود اپنا خون پینے کی عادت بدل گئی
تھا لازمی سو مجھ کو مِری ذات کھل گئی
تلوے کی خاک زندگی چہرے پہ مل گئی
ہستی درونِ ذات کی حدت سے جل گئی
ہم کو بلا سا پایا بلا سر سے ٹل گئی
مہیب سی شب چمکتے دن پر جھپٹ رہی ہے
وبا کی رُت تو مرن کے منتر ہی رٹ رہی ہے
کھرچ کھرچ کر نکال لیتا سفیدی دن کی
گھڑی پہ چھوڑا سو رات آنکھوں میں کٹ رہی ہے
اداس رنگوں کے قہقہوں کا شور سن کر
ہماری گلیوں کی مسکراہٹ سمٹ رہی ہے
خطائیں یاد رکھ کر تم عطا کو بُھول جاتے ہو
جو ماتھا چُوم کے دی تھی دعا کو بھول جاتے ہو
عداوت رکھنے والوں سے محبت کیسے ہوتی ہے
ہے تم کو یاد سب، اس ارتقاء کو بھول جاتے ہو
بہت محتاط سا لہجہ کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں
فرومایہ ہو بے حد تم، وفا کو بھول جاتے ہو
دکھ سے بھر گیا ہوں میں، میں بہت عجیب ہوں
خود سے ڈر گیا ہو میں، میں بہت عجیب ہوں
تیرا نام بار ہا لب پہ آ رہا ہے کیوں
کیوں سنور گیا ہوں میں، میں بہت عجیب ہوں
کیا مہیب ہو گئی شوق کی تمام راہ
لو اتر گیا ہوں میں، میں بہت عجیب ہوں
بیٹھا ہے دل فقیر جگر بے ثمر کے ساتھ
اک بے ہنر کا ساتھ ہے اک بے ہنر کے ساتھ
ہم وہ، جو تیرے لب کی، جنبش سے ہیں جڑے
کچھ لوگ ہیں جڑے تِری دیوار و در کے ساتھ
تم، میرا خیر چاہنے والی ہو، خیر ہو
لیکن کرو قبول مجھے، میرے شر کے ساتھ