Showing posts with label ابو لویزا علی. Show all posts
Showing posts with label ابو لویزا علی. Show all posts

Sunday, 31 December 2023

قالو بلی سے آج تک اعلان نعت ہے

  عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


قالو بلی٭ سے آج تک اعلانِ نعت ہے

امکان کی یہ بزم تو ایوان نعت ہے

یٰسین نعت، سورۂ رحمان نعت ہے

الحمد نعت، سورۂ عمران نعت ہے

عرفان نعت حق کی عطا پر ہے منحصر

آنکھیں ملیں تو پورا ہی قرآن نعت ہے

Monday, 30 October 2023

ایسے نہ دیکھ گھور کے نا یوں جبیں چڑھا

 ایسے نہ دیکھ گُھور کے نا یوں جبیں چڑھا

اب چُوڑیاں اتار، نہ یوں آستیں چڑھا

لب ہائے احمریں پہ یہ تُرشی نہیں بھلی

نصرت کا لب پہ نغمۂ دل آفریں چڑھا

ہے جو ہوا کی دوش پہ چادر کو چھوڑ دے

بالوں میں پُھول ڈال کے چُنری حسیں چڑھا

Thursday, 28 September 2023

صورت بنائیے کوئی تازہ وصال کی

 صورت بنائیے کوئی تازہ وصال کی

حاجت ہے زخم ہجر کو اب اندمال کی

اک زخم ہوں جو زخم ہے تازہ شکست کا

خنکی سے پھٹ رہا ہے جو باد شمال کی

خواہش خرد کے پاؤں پکڑتی ہے بار بار

ہے ملتمس کہ لائیے صورت وصال کی

Monday, 3 July 2023

حلول کر نہیں سکتا تو پھر حلاوت دے

 حلول کر نہیں سکتا تو پھر حلاوت دے

مجھے طواف نہیں وصل کی سہولت دے

مدار< قید ہے گردش سے تنگ آ گیا ہوں

طواف چھوڑ کے آؤں مجھے اجازت دے

درشت لہجے میں خود سے کلام کر یارم

لذیذ لہجے سے خود کو بھی تھوڑی لذت دے

Thursday, 1 June 2023

تھوڑی سی پی تو تھوڑی طبیعت سنبھل گئی

 تھوڑی سی پی تو تھوڑی طبیعت سنبھل گئی

خود اپنا خون پینے کی عادت بدل گئی

تھا لازمی سو مجھ کو مِری ذات کھل گئی

تلوے کی خاک زندگی چہرے پہ مل گئی

ہستی درونِ ذات کی حدت سے جل گئی

ہم کو بلا سا پایا بلا سر سے ٹل گئی

Thursday, 25 May 2023

مہیب سی شب چمکتے دن پر جھپٹ رہی ہے

 مہیب سی شب چمکتے دن پر جھپٹ رہی ہے

وبا کی رُت تو مرن کے منتر ہی رٹ رہی ہے

کھرچ کھرچ کر نکال لیتا سفیدی دن کی

گھڑی پہ چھوڑا سو رات آنکھوں میں کٹ رہی ہے

اداس رنگوں کے قہقہوں کا شور سن کر

ہماری گلیوں کی مسکراہٹ سمٹ رہی ہے

Sunday, 7 May 2023

خطائیں یاد رکھ کر تم عطا کو بھول جاتے ہو

 خطائیں یاد رکھ کر تم عطا کو بُھول جاتے ہو

جو ماتھا چُوم کے دی تھی دعا کو بھول جاتے ہو

عداوت رکھنے والوں سے محبت کیسے ہوتی ہے

ہے تم کو یاد سب، اس ارتقاء کو بھول جاتے ہو

بہت محتاط سا لہجہ کہاں سے ڈھونڈ کر لاؤں

فرومایہ ہو بے حد تم، وفا کو بھول جاتے ہو

Saturday, 24 December 2022

دکھ سے بھر گیا ہوں میں میں بہت عجیب ہوں

دکھ سے بھر گیا ہوں میں، میں بہت عجیب ہوں

خود سے ڈر گیا ہو میں، میں بہت عجیب ہوں

تیرا نام بار ہا لب پہ آ رہا ہے کیوں

کیوں سنور گیا ہوں میں، میں بہت عجیب ہوں

کیا مہیب ہو گئی شوق کی تمام راہ

لو اتر گیا ہوں میں، میں بہت عجیب ہوں

Saturday, 12 November 2022

بیٹھا ہے دل فقیر جگر بے ثمر کے ساتھ

بیٹھا ہے دل فقیر جگر بے ثمر کے ساتھ

اک بے ہنر کا ساتھ ہے اک بے ہنر کے ساتھ

ہم وہ، جو تیرے لب کی، جنبش سے ہیں جڑے

کچھ لوگ ہیں جڑے تِری دیوار و در کے ساتھ

تم، میرا خیر چاہنے والی ہو، خیر ہو

لیکن کرو قبول مجھے، میرے شر کے ساتھ