Showing posts with label ردا فاطمہ. Show all posts
Showing posts with label ردا فاطمہ. Show all posts

Sunday, 1 January 2023

ہجر میں جتنا فاصلہ ہو گا

 ہجر میں جتنا فاصلہ ہو گا

اک دِیا پھر بھی جل رہا ہو گا

کس قدر شوقِ خود نمائی ہے

آئینہ خود پہ ہنس رہا ہو گا

حادثہ کل کوئی ہوا تو تھا

شور مٹی میں دب گیا ہو گا

Tuesday, 22 March 2022

دھل گئے خواب تو آنکھوں کا بھی اترا کاجل

 دُھل گئے خواب تو آنکھوں کا بھی اُترا کاجل

میں کہاں روئی جو ہر بار ہی پھیلا کاجل

مجھ کو اپنوں سے سیاست نہیں کرنی آئی

کی شکایت تو مِرے حال پہ رویا کاجل

عقل و دانش و ادب اور سمجھ سچائی

فہم و ادراک کا اب کس نے لگایا کاجل

Monday, 1 November 2021

نظر نے جو دیکھا کھلا ہی نہیں

 نظر نے جو دیکھا کھلا ہی نہیں

جو سب نےسنا وہ کہا ہی نہیں

مِری رائے تھی اک گزارش تھی وہ

کوئی حکم میں نے دیا ہی نہیں

سبھی سانپ بِچھو ہوئے اک جگہ

اثر زہر کا پھر ہوا ہی نہیں

Wednesday, 1 September 2021

گھر جانے کو جا سکتے تھے

 گھر جانے کو جا سکتے تھے

پنچھی دانہ لا سکتے تھے

صندل جیسی باتیں کر کے

مجھ میں دیپ جلا سکتے تھے

اپنے رنگ میں مجھ کو رنگ کے

اپنی شام سجا سکتے تھے

Thursday, 10 June 2021

گردشوں دائرے یہ محور کیوں

 گردشوں، دائرے یہ محور کیوں

پھر زمیں کھا رہی ہے چکر کیوں

جب محبت کا نام لیتے ہیں

لوگ پھر مارتے ہیں پتھر کیوں

عکس جیسا ہے تیرا ہی تو ہے

آئینہ دیکھ کر تمہیں ڈر کیوں

Sunday, 14 March 2021

کہیں زمیں تو کہیں آسمان ہے عورت

 کہیں زمیں تو کہیں آسمان ہے عورت

حیا کے ساتھ ہے تو اک جہان ہے عورت

کہیں نشاں تو کہیں بے نشانیاں اس کی

ہے داستاں تو کہیں رازدان ہے عورت

کبھی کبھی تو سمیٹے ہوئے وہ سسکیوں کو

بہت خموش ہے لیکن بیان ہے عورت

Saturday, 6 March 2021

خود پسندی ہے خود سری ہے کہاں

 خود پسندی ہے خود سری ہے کہاں

بے سبب بے خودی رہی ہے کہاں

کھلکھلاتی تھی مسکراتی تھی

زندگی اب تو کھو گئی ہے کہاں

شدت غم میں مسکراتے ہیں

ٹوٹ جائے وہ آدمی ہے کہاں

Sunday, 6 December 2020

جاہلوں سے کوئی کلام نہیں

 جاہلوں سے کوئی کلام نہیں

عادتوں میں یہ اہتمام نہیں

میں نمٹ لوں برستے بادلوں سے

کچی بستی میں پکے بام نہیں

اے سخن کے خدا! کہاں ملے گا

اِذن دے، شاعری حرام نہیں

Saturday, 5 December 2020

خوشی کی نئی اک روایت ملے گی

 خوشی کی نئی اک روایت ملے گی

جیے جانے سے ہی طراوت ملے گی

یہ تیور کسی اور کو تم دِکھانا

مرے لہجے میں بس ذہانت ملے گی

جہاں پیڑ پہ نام تیرا لکھا تھا

دسمبر میں اس سے شکایت ملے گی

Friday, 4 December 2020

جگاؤ نہیں اب

 جگاؤ نہیں اب


سبھی بکھرے خوابوں کو دھوکا دئیے

اب پری سو رہی ہے

تماشہ لگائے یہ خوابوں کا جھرمٹ کھڑا ہے

وہ دربان دیکھو

جھروکے سے آنے کو بے تاب ہے

اور شکایت لگانے کو الفاظ کی حاضری ہے

Thursday, 3 December 2020

دلی سے لاہور کو جائیں

 دِلی سے لاہور کو جائیں

اردو ہندی نغمے گائیں

اس لمحے کی اوٹ میں چھپ کر

سارے پنچھی گیت سنائیں

دیوی کے چرنوں میں بیٹھے

سارے پنڈت بھوگ چڑھائیں

خسرو اٹھے غالب گزرے بزم سے اب نغمات گئے

 خسرو اٹھے غالب گزرے بزم سے اب نغمات گئے

زہر کا پیالہ کون پیے گا؟ عالم سے سقراط گئے

حبس کا پہرا اندر بیٹھا دل سے سب حضرات گئے

ماپ سکیں احساس کو جو، وہ دنیا سے آلات گئے

سبزہ، جنگل، پربت، دریا، روہی رب نے کھول دئیے

مسجد کھولو، مندر کھولو، گرجے کھولو، رات گئے