ہجر میں جتنا فاصلہ ہو گا
اک دِیا پھر بھی جل رہا ہو گا
کس قدر شوقِ خود نمائی ہے
آئینہ خود پہ ہنس رہا ہو گا
حادثہ کل کوئی ہوا تو تھا
شور مٹی میں دب گیا ہو گا
ہجر میں جتنا فاصلہ ہو گا
اک دِیا پھر بھی جل رہا ہو گا
کس قدر شوقِ خود نمائی ہے
آئینہ خود پہ ہنس رہا ہو گا
حادثہ کل کوئی ہوا تو تھا
شور مٹی میں دب گیا ہو گا
دُھل گئے خواب تو آنکھوں کا بھی اُترا کاجل
میں کہاں روئی جو ہر بار ہی پھیلا کاجل
مجھ کو اپنوں سے سیاست نہیں کرنی آئی
کی شکایت تو مِرے حال پہ رویا کاجل
عقل و دانش و ادب اور سمجھ سچائی
فہم و ادراک کا اب کس نے لگایا کاجل
نظر نے جو دیکھا کھلا ہی نہیں
جو سب نےسنا وہ کہا ہی نہیں
مِری رائے تھی اک گزارش تھی وہ
کوئی حکم میں نے دیا ہی نہیں
سبھی سانپ بِچھو ہوئے اک جگہ
اثر زہر کا پھر ہوا ہی نہیں
گھر جانے کو جا سکتے تھے
پنچھی دانہ لا سکتے تھے
صندل جیسی باتیں کر کے
مجھ میں دیپ جلا سکتے تھے
اپنے رنگ میں مجھ کو رنگ کے
اپنی شام سجا سکتے تھے
گردشوں، دائرے یہ محور کیوں
پھر زمیں کھا رہی ہے چکر کیوں
جب محبت کا نام لیتے ہیں
لوگ پھر مارتے ہیں پتھر کیوں
عکس جیسا ہے تیرا ہی تو ہے
آئینہ دیکھ کر تمہیں ڈر کیوں
کہیں زمیں تو کہیں آسمان ہے عورت
حیا کے ساتھ ہے تو اک جہان ہے عورت
کہیں نشاں تو کہیں بے نشانیاں اس کی
ہے داستاں تو کہیں رازدان ہے عورت
کبھی کبھی تو سمیٹے ہوئے وہ سسکیوں کو
بہت خموش ہے لیکن بیان ہے عورت
خود پسندی ہے خود سری ہے کہاں
بے سبب بے خودی رہی ہے کہاں
کھلکھلاتی تھی مسکراتی تھی
زندگی اب تو کھو گئی ہے کہاں
شدت غم میں مسکراتے ہیں
ٹوٹ جائے وہ آدمی ہے کہاں
جاہلوں سے کوئی کلام نہیں
عادتوں میں یہ اہتمام نہیں
میں نمٹ لوں برستے بادلوں سے
کچی بستی میں پکے بام نہیں
اے سخن کے خدا! کہاں ملے گا
اِذن دے، شاعری حرام نہیں
خوشی کی نئی اک روایت ملے گی
جیے جانے سے ہی طراوت ملے گی
یہ تیور کسی اور کو تم دِکھانا
مرے لہجے میں بس ذہانت ملے گی
جہاں پیڑ پہ نام تیرا لکھا تھا
دسمبر میں اس سے شکایت ملے گی
جگاؤ نہیں اب
سبھی بکھرے خوابوں کو دھوکا دئیے
اب پری سو رہی ہے
تماشہ لگائے یہ خوابوں کا جھرمٹ کھڑا ہے
وہ دربان دیکھو
جھروکے سے آنے کو بے تاب ہے
اور شکایت لگانے کو الفاظ کی حاضری ہے
دِلی سے لاہور کو جائیں
اردو ہندی نغمے گائیں
اس لمحے کی اوٹ میں چھپ کر
سارے پنچھی گیت سنائیں
دیوی کے چرنوں میں بیٹھے
سارے پنڈت بھوگ چڑھائیں
خسرو اٹھے غالب گزرے بزم سے اب نغمات گئے
زہر کا پیالہ کون پیے گا؟ عالم سے سقراط گئے
حبس کا پہرا اندر بیٹھا دل سے سب حضرات گئے
ماپ سکیں احساس کو جو، وہ دنیا سے آلات گئے
سبزہ، جنگل، پربت، دریا، روہی رب نے کھول دئیے
مسجد کھولو، مندر کھولو، گرجے کھولو، رات گئے