Saturday, 6 March 2021

خود پسندی ہے خود سری ہے کہاں

 خود پسندی ہے خود سری ہے کہاں

بے سبب بے خودی رہی ہے کہاں

کھلکھلاتی تھی مسکراتی تھی

زندگی اب تو کھو گئی ہے کہاں

شدت غم میں مسکراتے ہیں

ٹوٹ جائے وہ آدمی ہے کہاں

آخری فیصلہ مِرا ہو گا

پر تماشا یہ آخری ہے کہاں

درمیاں کچھ نہیں خلا ہے بس

اور یہ دیوار سی اٹھی ہے کہاں

اک نمی تھی جو جگمگاتی رہی

ورنہ آنکھوں میں روشنی ہے کہاں

قاضیِ وقت کیا بتائے گا

ترے حالات میں کمی ہے کہاں

جس نے مسلک الگ کئے ہیں یہاں

اس میں انسانیت بچی ہے کہاں

کھو گئی ہے جو گردشوں میں حیات

رقصِ حیرت ہے ڈھونڈتی ہے کہاں

دھڑکنیں بے زباں نہ ہو جائیں

اور ردا یوں بھی بولتی ہے کہاں


ردا فاطمہ

No comments:

Post a Comment