خود پسندی ہے خود سری ہے کہاں
بے سبب بے خودی رہی ہے کہاں
کھلکھلاتی تھی مسکراتی تھی
زندگی اب تو کھو گئی ہے کہاں
شدت غم میں مسکراتے ہیں
ٹوٹ جائے وہ آدمی ہے کہاں
آخری فیصلہ مِرا ہو گا
پر تماشا یہ آخری ہے کہاں
درمیاں کچھ نہیں خلا ہے بس
اور یہ دیوار سی اٹھی ہے کہاں
اک نمی تھی جو جگمگاتی رہی
ورنہ آنکھوں میں روشنی ہے کہاں
قاضیِ وقت کیا بتائے گا
ترے حالات میں کمی ہے کہاں
جس نے مسلک الگ کئے ہیں یہاں
اس میں انسانیت بچی ہے کہاں
کھو گئی ہے جو گردشوں میں حیات
رقصِ حیرت ہے ڈھونڈتی ہے کہاں
دھڑکنیں بے زباں نہ ہو جائیں
اور ردا یوں بھی بولتی ہے کہاں
ردا فاطمہ
No comments:
Post a Comment