تیری خاطر ہی رہا تیرے بہانے سے رہا
اک تعلق جو مِرا سارے زمانے سے رہا
کیا یہ کم ہے کہ تِری رہ سے ہٹاؤں پتھر
اب ستارے تو سرِ راہ بچھانے سے رہا
مجھ سے تو مل کے جدا اپنی سہولت سے ہوا
اب میں طوفاں تو کوئی اس پہ اٹھانے سے رہا
میں چراغوں میں لہو بھر کے جلا سکتا ہوں
چاند قدموں میں تو اب لا کے سجانے سے رہا
تجھ کو معلوم ہے گر شیشہ گری کا تو بتا
عکس کیوں دور تِرے آئینہ خانے سے رہا
تو کبھی اپنے رویے پہ بھی کچھ غور تو کر
یہ تعلق میں اکیلا تو نبھانے سے رہا
عشق مجبورِ تماشا ہو ضروری بھی نہیں
خاک چوکھٹ کی تِری زین اڑانے سے رہا
اشتیاق زین
No comments:
Post a Comment