شعر مجھ سے کبھی تخلیق نہیں ہوتا تھا
بن تِرے کچھ بھی یہاں ٹھیک نہیں ہوتا تھا
روشنی غار سے نکلی تو نظر آیا تُو
ورنہ ہم سا کوئی زندیق نہیں ہوتا تھا
اے حسیں شخص عجب بات نہیں ہے تو مِرے
دل میں ہوتے ہوئے نزدیک نہیں ہوتا تھا
میری قسمت میں کوئی ایسی گھڑی تھی جس میں
وقت چلتا تھا مگر ٹھیک نہیں ہوتا تھا
راشد علی مرکھیانی
No comments:
Post a Comment