دل میں غم کتنا ہے، لہجے میں مسرت کتنی
زخم سہنے میں بھی رہتی ہے سہولت کتنی
بھولتے ہی نہیں اس موہنی صورت کے نقوش
ڈھونڈتا رہتا ہوں چہروں میں شباہت کتنی
نور جتنا ہو قباؤں میں مگر دیکھتا ہوں
ان چراغوں کے تلے رہتی ہے ظلمت کتنی
دل میں غم کتنا ہے، لہجے میں مسرت کتنی
زخم سہنے میں بھی رہتی ہے سہولت کتنی
بھولتے ہی نہیں اس موہنی صورت کے نقوش
ڈھونڈتا رہتا ہوں چہروں میں شباہت کتنی
نور جتنا ہو قباؤں میں مگر دیکھتا ہوں
ان چراغوں کے تلے رہتی ہے ظلمت کتنی
رات کے اندھیرے میں
سردیوں کی بارش ہے
کھڑکیوں کے شیشوں پر
شور سا مچا ہے اور
اک عجیب حالت ہے
اشکِ غم نہیں، پھر بھی
آنکھ نم نہیں، پھر بھی
بخش دے کچھ تو اعتبار مجھے
پیار سے دیکھ چشم یار مجھے
رات بھی چاند بھی سمندر بھی
مل گئے کتنے غمگسار مجھے
روشنی اور کچھ بڑھا جاؤں
سوز غم اور بھی نکھار مجھے
عشق رشتہ مِرا مضبوط کیے دیتا ہے
حسن ایسا ہے کہ مبہوت کیے دیتا ہے
میرا مرشد ہے وہ پارس کہ قدم چھو لوں تو
سنگریزے مِرے یاقوت کیے دیتا ہے
ایک دھاگے میں پرو دیتا ہے سب عشق حروف
بکھری سوچیں مِری مربوط کیے دیتا ہے
عزت ذرا سی دے کے مجھے مان سے اٹھا
زخموں سے چُور ہوں میں، ذرا دھیان سے اٹھا
اپنے غرورِ فتح کا اعلان سب میں کر
کٹ کر گرا ہے سر مِرا، پیکان سے اٹھا
کر روشنی کے خواب کی تعبیر دم بہ دم
اک اک کرن کو روزنِ زندان سے اٹھا
کرم کے باب میں اپنوں سے ابتدا کیا کر
ذرا سی بات پہ دل کو نہ یوں برا کیا کر
نماز عشق ہے ٹوٹے دلوں کی دل داری
مِرے عزیز! نہ اس کو کبھی قضا کیا کر
اجالے کے لیے ہے چشم و دل کا آئینہ
بپا کبھی کسی مظلوم کی عزا کیا کر
نشۂ شوق ہے فزوں شب کو ابھی سحر نہ کر
دیکھ حدیثِ دلبراں اتنی بھی مختصر نہ کر
سارا حسابِ جان و دل رکھا ہے تیرے سامنے
چاہے تو دے اماں مجھے، چاہے تو درگذر نہ کر
اپنوں سے ہار جیت کا کیسے کرے گا فیصلہ
اے میرے دل ٹھہر ذرا، یہ جو مہم ہے سر نہ کر
متاعِ آبرو رکھی ہوئی ہے
تمنا با وضو رکھی ہوئی ہے
سماعت میں مِری اب تک کسی کی
صدائے خوش گلو رکھی ہوئی ہے
جہاں پر ولولے تھے اب وہاں پر
کمندِ آرزو رکھی ہوئی ہے
دل سے منظور تِری ہم نے قیادت نہیں کی
یہ الگ بات ابھی کھل کے بغاوت نہیں کی
ہم سزا وار جو ٹھہرے تو سبب ہے اتنا
حکم حاکم پہ کبھی ہم نے اطاعت نہیں کی
دوستی میں بھی فقط ایک چلن رکھا ہے
دل نے انکار کیا ہے تو رفاقت نہیں کی
بہت کم وقت ہے دیکھو
مجھے تم سے محبت ہے
تمہارے گھر کے پھولوں سے گزر کر
مِرے کمرے کی کھلتی کھڑکیوں میں پیار کی مہکار بستی ہے
تمہارے بام سے ہو کر مِرے آنگن کی بیلوں پر
صبح سے شام تک چڑیوں کی اڑتی ڈار کی
خاکِ شفا
ماں یہ ہم سے کہتی تھی
حرمتِ شہیداں کا
قرض ہے زمینوں پر
خاک ان کے قدموں کی
آئی ہو جو مقتل سے
لوحِ ایام
آج کھولا جو اتفاقاً ہی
اپنے سامان میں رکھا اک بیگ
ڈھیر نکلا پرانی یادوں کا
اور یکدم چمک اٹھا ماضی
موم جامہ کیے ہوئے تعویذ