Showing posts with label مجید اختر. Show all posts
Showing posts with label مجید اختر. Show all posts

Saturday, 2 July 2022

دل میں غم کتنا ہے لہجے میں مسرت کتنی

 دل میں غم کتنا ہے، لہجے میں مسرت کتنی

زخم سہنے میں بھی رہتی ہے سہولت کتنی

بھولتے ہی نہیں اس موہنی صورت کے نقوش

ڈھونڈتا رہتا ہوں چہروں میں شباہت کتنی

نور جتنا ہو قباؤں میں مگر دیکھتا ہوں

ان چراغوں کے تلے رہتی ہے ظلمت کتنی

Saturday, 28 November 2020

سردیوں کی بارش ہے

 رات کے اندھیرے میں

سردیوں کی بارش ہے

کھڑکیوں کے شیشوں پر

شور سا مچا ہے اور

اک عجیب حالت ہے

اشکِ غم نہیں، پھر بھی

آنکھ نم نہیں، پھر بھی

Sunday, 4 October 2020

بخش دے کچھ تو اعتبار مجھے

 بخش دے کچھ تو اعتبار مجھے

پیار سے دیکھ چشم یار مجھے

رات بھی چاند بھی سمندر بھی

مل گئے کتنے غمگسار مجھے

روشنی اور کچھ بڑھا جاؤں

سوز غم اور بھی نکھار مجھے

عشق رشتہ مرا مضبوط کیے دیتا ہے

 عشق رشتہ مِرا مضبوط کیے دیتا ہے

حسن ایسا ہے کہ مبہوت کیے دیتا ہے

میرا مرشد ہے وہ پارس کہ قدم چھو لوں تو

سنگریزے مِرے یاقوت کیے دیتا ہے

ایک دھاگے میں پرو دیتا ہے سب عشق حروف

بکھری سوچیں مِری مربوط کیے دیتا ہے

Friday, 2 October 2020

عزت ذرا سی دے کے مجھے مان سے اٹھا

 عزت ذرا سی دے کے مجھے مان سے اٹھا

زخموں سے چُور ہوں میں، ذرا دھیان سے اٹھا

اپنے غرورِ فتح کا اعلان سب میں کر

کٹ کر گرا ہے سر مِرا، پیکان سے اٹھا

کر روشنی کے خواب کی تعبیر دم بہ دم

اک اک کرن کو روزنِ زندان سے اٹھا

کرم کے باب میں اپنوں سے ابتدا کیا کر

 کرم کے باب میں اپنوں سے ابتدا کیا کر

ذرا سی بات پہ دل کو نہ یوں برا کیا کر

نماز عشق ہے ٹوٹے دلوں کی دل داری

مِرے عزیز! نہ اس کو کبھی قضا کیا کر

اجالے کے لیے ہے چشم و دل کا آئینہ

بپا کبھی کسی مظلوم کی عزا کیا کر

Thursday, 1 October 2020

نشہ شوق ہے فزوں شب کو ابھی سحر نہ کر

 نشۂ شوق ہے فزوں شب کو ابھی سحر نہ کر

دیکھ حدیثِ دلبراں اتنی بھی مختصر نہ کر

سارا حسابِ جان و دل رکھا ہے تیرے سامنے

چاہے تو دے اماں مجھے، چاہے تو درگذر نہ کر

اپنوں سے ہار جیت کا کیسے کرے گا فیصلہ

اے میرے دل ٹھہر ذرا، یہ جو مہم ہے سر نہ کر

Wednesday, 30 September 2020

متاع آبرو رکھی ہوئی ہے

 متاعِ آبرو رکھی ہوئی ہے

تمنا با وضو رکھی ہوئی ہے

سماعت میں مِری اب تک کسی کی

صدائے خوش گلو رکھی ہوئی ہے

جہاں پر ولولے تھے اب وہاں پر

کمندِ آرزو رکھی ہوئی ہے

Tuesday, 29 September 2020

دل سے منظور تری ہم نے قیادت نہیں کی

 دل سے منظور تِری ہم نے قیادت نہیں کی

یہ الگ بات ابھی کھل کے بغاوت نہیں کی

ہم سزا وار جو ٹھہرے تو سبب ہے اتنا

حکم حاکم پہ کبھی ہم نے اطاعت نہیں کی

دوستی میں بھی فقط ایک چلن رکھا ہے

دل نے انکار کیا ہے تو رفاقت نہیں کی

Monday, 28 September 2020

بہت کم وقت ہے دیکھو

 بہت کم وقت ہے دیکھو


مجھے تم سے محبت ہے

تمہارے گھر کے پھولوں سے گزر کر

مِرے کمرے کی کھلتی کھڑکیوں میں پیار کی مہکار بستی ہے

تمہارے بام سے ہو کر مِرے آنگن کی بیلوں پر

صبح سے شام تک چڑیوں کی اڑتی ڈار کی

Sunday, 27 September 2020

خاک شفا

 خاکِ شفا


ماں یہ ہم سے کہتی تھی

حرمتِ شہیداں کا

قرض ہے زمینوں پر

خاک ان کے قدموں کی

آئی ہو جو مقتل سے

لوح ایام

 لوحِ ایام


آج کھولا جو اتفاقاً ہی

اپنے سامان میں رکھا اک بیگ

ڈھیر نکلا پرانی یادوں کا

اور یکدم چمک اٹھا ماضی

موم جامہ کیے ہوئے تعویذ