بخش دے کچھ تو اعتبار مجھے
پیار سے دیکھ چشم یار مجھے
رات بھی چاند بھی سمندر بھی
مل گئے کتنے غمگسار مجھے
روشنی اور کچھ بڑھا جاؤں
سوز غم اور بھی نکھار مجھے
چھ ہی دن میں بہار آ جاتی
اور کرنا تھا انتظار مجھے
دیکھ دنیا یہ پینترے نہ بدل
دیکھ شیشے میں مت اتار مجھے
آئینے میں نظر نہیں آتا
اپنا چہرہ کبھی کبھار مجھے
کس قدر شوخ ہو کے تکتا تھا
رات بند قبائے یار مجھے
دیکھ میں ساعت مسرت ہوں
اتنی عجلت سے مت گزار مجھے
رزق مقسوم کھا کے جینا تھا
کھا گئی فکرِ روزگار مجھے
مجید اختر
No comments:
Post a Comment