Sunday, 4 October 2020

بخش دے کچھ تو اعتبار مجھے

 بخش دے کچھ تو اعتبار مجھے

پیار سے دیکھ چشم یار مجھے

رات بھی چاند بھی سمندر بھی

مل گئے کتنے غمگسار مجھے

روشنی اور کچھ بڑھا جاؤں

سوز غم اور بھی نکھار مجھے

چھ ہی دن میں بہار آ جاتی

اور کرنا تھا انتظار مجھے

دیکھ دنیا یہ پینترے نہ بدل

دیکھ شیشے میں مت اتار مجھے

آئینے میں نظر نہیں آتا

اپنا چہرہ کبھی کبھار مجھے

کس قدر شوخ ہو کے تکتا تھا

رات بند قبائے یار مجھے

دیکھ میں ساعت مسرت ہوں

اتنی عجلت سے مت گزار مجھے

رزق مقسوم کھا کے جینا تھا

کھا گئی فکرِ روزگار مجھے


مجید اختر

No comments:

Post a Comment