Sunday, 4 October 2020

ہو چکا وعظ کا اثر واعظ

 ہو چکا وعظ کا اثر واعظ

اب تو رندوں سے درگزر واعظ

صبح دم ہم سے تو نہ کر تکرار

ہے ہمیں پہلے دردِ سر واعظ

بزمِ رنداں میں ہو اگر شامل

پھر تجھے کچھ نہیں خطر واعظ

وعظ اپنا یہ بھول جائے تو

آوے گر یار سیم بر واعظ

ہے یہ مرغِ سحر سے بھی فائق

صبح اٹھتا ہے پیشتر واعظ

مسجد و کعبہ میں تو پھرتا ہے

کوئے جاناں سے بے خبر واعظ

شور و غل بند تو نہیں کرتا

ہے تو انساں کہ کوئی خر واعظ

ظاہری وعظ سے ہے کیا حاصل

اپنے باطن کو صاف کر واعظ

بندۂ کوئے یار ہے بہرام

تیری مسجد سے کیا خبر واعظ


بہرام جی

No comments:

Post a Comment