Showing posts with label رضوانہ انجم. Show all posts
Showing posts with label رضوانہ انجم. Show all posts

Monday, 7 October 2024

بزم میلاد سجانے میں مزہ آتا ہے

 عارفانہ کلام حمد نعت منقبت


بزم میلاد سجانے میں مزہ آتا ہے

بس مجھے نعت سنانے میں مزہ آتا ہے

دل کو سرکار کی الفت سے منور کر کے

سب سیاہی کو مٹانے میں مزہ آتا ہے

فضلِ مولیٰ سے میں ہوں سیدہ زہراؑ کی کنیز

حیدری نعرہ لگانے میں مزہ آتا ہے

Sunday, 30 January 2022

تم مجھے پینڈو ہی رہنے دو

 ہاں میں پینڈو ایک عام عورت ہوں

تم مجھے پینڈو ہی رہنے دو

میں گزشتہ کئی سالوں سے جاب کر رہی ہوں

میں ہاؤس وائف بھی ہوں اور ورکنگ ویمن بھی ہوں

اپنی مرضی سے آتی جاتی ہوں

مردوں کے ساتھ اکیلے سفر بھی کرتی ہوں

Saturday, 29 January 2022

ہائے تو نے پہلے ہی نہ چھوڑا تھا کسی کام کا

 ہائے تُو نے پہلے ہی نہ چھوڑا تھا کسی کام کا

💢اور اب یہ نئی اک وبا آئی ہے💢

بڑا ناز تھا تجھ کو عذاب جاں بن کر رہنے کا

اے عشق! دیکھ تِرے برابر کی بلا آئی ہے

خوشبوؤں، لذتوں، رنگوں سے بھی گئے

کیسی یہ بن کے ہم پہ سزا آئی ہے

Thursday, 26 August 2021

زندگی ہم تیری بے رخی سے ڈر گئے

 زندگی ہم تیری بے رُخی سے ڈر گئے

اس قدر کہ مرے بغیر موت سے گزر گئے

دل بوجھل ہے، فضا سوگوار ہے

ابھی کہاں آنکھوں سے دُکھ کے منظر گئے

سوگواری ہے، اداسی ہے اس قدر

کہ ہم خود سے بھی مُکر گئے

Tuesday, 17 August 2021

مجھے پسند ہے جو آپ کو پسند ہو

مجھے پسند ہے

بارشوں کے بعد کی گیلی مٹی کی باس

بے رنگ بہاروں سے زیادہ

خشک پتوں سے اٹی خزاں

کسی بھی اور موسم سے زیادہ

یخ بستہ اداس جاڑے

Wednesday, 30 June 2021

ان کے بغیر دل کی تسلی ملی نہیں

 ان کے بغیر دل کی تسلی ملی نہیں

دل کا معاملہ ہے کوئی دل لگی نہیں

وعدے کے ساتھ توڑ دیا جس نے میرا دل

اس بے وفا کی یاد ابھی تک گئی نہیں

وہ چل دئیے یہ کہہ کے کہ آئیں گے خواب میں

بس اس خوشی میں آنکھ بھی میری لگی نہیں

Friday, 25 June 2021

حادثے محبت کے جان لیوا ہوتے ہیں

 زندگی کے رستوں میں دھوپ جب بکھر جائے

ابر جب ٹھہر جائے

آنکھ جب سفر میں ہو

رنگ جب نظر میں ہوں

دل کسی کی یادوں میں ڈوب کر ابھرتا ہو

سانس جب معطر ہوں

Thursday, 22 April 2021

آنکھوں میں جام ہونٹوں پہ لمحہ وصال رکھتے ہیں

 آنکھوں میں جام، ہونٹوں پہ لمحۂ وصال رکھتے ہیں

ہم کہ خواب سا حسن و جمال رکھتے ہیں

سخن میں آپ اپنی مثال ہیں ہم

ہم بھی گفتگو میں کمال رکھتے ہیں

ہماری تلاش میں بھٹک جایا کرتے ہیں مسافر

لہجے میں چاشنی، گلاب سے خدوخال رکھتے ہیں

Sunday, 15 November 2020

جو سر اٹھا نہ سکیں وہ بغاوتیں کیسی

 جو سر اٹھا نہ سکیں، وہ بغاوتیں کیسی

جو اپنا دل ہی جلائیں، وہ چاہتیں کیسی

ہم اپنے عہد کی تازہ ہوا میں سانس نہ لیں

ملی ہیں ورثے میں ہم کو محبتیں کیسی

وہ کر گیا بھری برسات میں لہو دل کا

رہی ہیں آنکھ پہ بارش کی شدتیں کیسی

درد کے لمحوں میں ڈھال لگتا ہے

 درد کے لمحوں میں ڈھال لگتا ہے

ترا خیال ہی مجھ کو وصال لگتا ہے

گھٹن کچھ ایسی کہ مر رہی ہے زندگی

یہ قید و بند کا موسم وبال لگتا ہے

جو شب کو بھیگتے کاجل میں جاگ اٹھے

وہ درد مجھ کو بڑا با کمال لگتا ہے