عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بزم میلاد سجانے میں مزہ آتا ہے
بس مجھے نعت سنانے میں مزہ آتا ہے
دل کو سرکار کی الفت سے منور کر کے
سب سیاہی کو مٹانے میں مزہ آتا ہے
فضلِ مولیٰ سے میں ہوں سیدہ زہراؑ کی کنیز
حیدری نعرہ لگانے میں مزہ آتا ہے
عارفانہ کلام حمد نعت منقبت
بزم میلاد سجانے میں مزہ آتا ہے
بس مجھے نعت سنانے میں مزہ آتا ہے
دل کو سرکار کی الفت سے منور کر کے
سب سیاہی کو مٹانے میں مزہ آتا ہے
فضلِ مولیٰ سے میں ہوں سیدہ زہراؑ کی کنیز
حیدری نعرہ لگانے میں مزہ آتا ہے
ہاں میں پینڈو ایک عام عورت ہوں
تم مجھے پینڈو ہی رہنے دو
میں گزشتہ کئی سالوں سے جاب کر رہی ہوں
میں ہاؤس وائف بھی ہوں اور ورکنگ ویمن بھی ہوں
اپنی مرضی سے آتی جاتی ہوں
مردوں کے ساتھ اکیلے سفر بھی کرتی ہوں
ہائے تُو نے پہلے ہی نہ چھوڑا تھا کسی کام کا
💢اور اب یہ نئی اک وبا آئی ہے💢
بڑا ناز تھا تجھ کو عذاب جاں بن کر رہنے کا
اے عشق! دیکھ تِرے برابر کی بلا آئی ہے
خوشبوؤں، لذتوں، رنگوں سے بھی گئے
کیسی یہ بن کے ہم پہ سزا آئی ہے
زندگی ہم تیری بے رُخی سے ڈر گئے
اس قدر کہ مرے بغیر موت سے گزر گئے
دل بوجھل ہے، فضا سوگوار ہے
ابھی کہاں آنکھوں سے دُکھ کے منظر گئے
سوگواری ہے، اداسی ہے اس قدر
کہ ہم خود سے بھی مُکر گئے
مجھے پسند ہے
بارشوں کے بعد کی گیلی مٹی کی باس
بے رنگ بہاروں سے زیادہ
خشک پتوں سے اٹی خزاں
کسی بھی اور موسم سے زیادہ
یخ بستہ اداس جاڑے
ان کے بغیر دل کی تسلی ملی نہیں
دل کا معاملہ ہے کوئی دل لگی نہیں
وعدے کے ساتھ توڑ دیا جس نے میرا دل
اس بے وفا کی یاد ابھی تک گئی نہیں
وہ چل دئیے یہ کہہ کے کہ آئیں گے خواب میں
بس اس خوشی میں آنکھ بھی میری لگی نہیں
زندگی کے رستوں میں دھوپ جب بکھر جائے
ابر جب ٹھہر جائے
آنکھ جب سفر میں ہو
رنگ جب نظر میں ہوں
دل کسی کی یادوں میں ڈوب کر ابھرتا ہو
سانس جب معطر ہوں
آنکھوں میں جام، ہونٹوں پہ لمحۂ وصال رکھتے ہیں
ہم کہ خواب سا حسن و جمال رکھتے ہیں
سخن میں آپ اپنی مثال ہیں ہم
ہم بھی گفتگو میں کمال رکھتے ہیں
ہماری تلاش میں بھٹک جایا کرتے ہیں مسافر
لہجے میں چاشنی، گلاب سے خدوخال رکھتے ہیں
جو سر اٹھا نہ سکیں، وہ بغاوتیں کیسی
جو اپنا دل ہی جلائیں، وہ چاہتیں کیسی
ہم اپنے عہد کی تازہ ہوا میں سانس نہ لیں
ملی ہیں ورثے میں ہم کو محبتیں کیسی
وہ کر گیا بھری برسات میں لہو دل کا
رہی ہیں آنکھ پہ بارش کی شدتیں کیسی
درد کے لمحوں میں ڈھال لگتا ہے
ترا خیال ہی مجھ کو وصال لگتا ہے
گھٹن کچھ ایسی کہ مر رہی ہے زندگی
یہ قید و بند کا موسم وبال لگتا ہے
جو شب کو بھیگتے کاجل میں جاگ اٹھے
وہ درد مجھ کو بڑا با کمال لگتا ہے