Thursday, 22 April 2021

آنکھوں میں جام ہونٹوں پہ لمحہ وصال رکھتے ہیں

 آنکھوں میں جام، ہونٹوں پہ لمحۂ وصال رکھتے ہیں

ہم کہ خواب سا حسن و جمال رکھتے ہیں

سخن میں آپ اپنی مثال ہیں ہم

ہم بھی گفتگو میں کمال رکھتے ہیں

ہماری تلاش میں بھٹک جایا کرتے ہیں مسافر

لہجے میں چاشنی، گلاب سے خدوخال رکھتے ہیں

ہماری نگاہوں سے لُٹتے ہیں قافلے دل کے

ہمارے ساتھ بیتے پَل، ماہ و سال رکھتے ہیں

ایسا نہیں ہوا کہ ہم بھُول گئے آپ کو

ہم تو بس آپ ہی کا خیال رکھتے ہیں

ہم خاموش ہیں کہ چاہتوں کا بھرم رہ جائے

آپ جواب بھول جائیں گے، ایسے سوال رکھتے ہیں

ڈھونڈو گے کہاں ہم جیسے دلنشیں، دلنوا

ہم کہ دلبری میں ایک مثال رکھتے ہیں


رضوانہ انجم

No comments:

Post a Comment