چمن ہے، بہاریں ہیں، گلباریاں ہیں
گھٹا ہے، پھواریں ہیں، میخواریاں ہیں
ستم کوشیاں ہیں، جفا کاریاں ہیں
یہ کس کے مٹانے کی تیاریاں ہیں
بتو! تم خدا جانے کیسے خدا ہو
کہ ستاریاں ہیں، نہ غفاریاں ہیں
جو اب کوئی پُرساں نہیں ہے تو کیا غم
غمِ دوست ہے، اور غم خواریاں ہیں
اگر تم خداوندِ عالم نہیں ہو
تو عالم میں کس کی پرستاریاں ہیں
اب آنکھیں نہیں جاگتی تو نہ جاگیں
کہ اب روح ہے اور بیداریاں ہیں
آزاد انصاری
No comments:
Post a Comment