Showing posts with label سجاد سید. Show all posts
Showing posts with label سجاد سید. Show all posts

Monday, 29 April 2024

دیوانے ذرا رقص جنوں تیز کیے جا

 دیوانے ذرا رقص جنوں تیز کیے جا

منطق سے خرد کی ابھی پرہیز کیے جا

میں تیرے معائب کو محاسن ہی کہوں گا

تو ظرف انا کو میرے لبریز کیے جا

خاموش نہ رہ غنچۂ سربستہ کی صورت

لب کھول تو ماحول کو گلریز کیے جا

Wednesday, 24 April 2024

خیال یار کا روشن جو ہے دیا نہ بجھا

  خیالِ یار کا روشن جو ہے دِیا نہ بُجھا

رہِ حیات میں اس سے ہی ہے ضیا نہ بجھا

جو پیاس ہی ہے مقدر مِرا، تو پھر ساقی

پیالہ رہنے دے یہ تشنگی بڑھا نہ بجھا

شبِ وصال ہے، دم لے ذرا نمودِ سحر

ٹھہر، ابھی سے ستاروں کا سلسلہ نہ بجھا

Monday, 15 January 2024

ستم تو کرتا ہے لیکن دعا بھی دیتا ہے

 سِتم تو کرتا ہے لیکن دُعا بھی دیتا ہے

مِرا حریف مجھے حوصلہ بھی دیتا ہے

ہے جس کا ایک تبسّم قرارِ جاں اپنا

اسی کا طرزِ تغافل رُلا بھی دیتا ہے

بجا کہ ہِجر کا عالم عذاب ہے یارو

مگر یہ عرصۂ فُرقت مزا بھی دیتا ہے

Monday, 2 August 2021

ہمیں تو حرف تمنا زباں پہ لانا ہے

ہمیں تو حرفِ تمنّا زباں پہ لانا ہے

یہ شعر اور یہ غزلیں تو بس بہانا ہے

تمہارے ہاتھ کا پتھر کوئی نیا تو نہیں

جبِیں سے سنگ کا رشتہ بہت پرانا ہے

ہو تیرے حُسن کا جادُو کہ میرا جوشِ طلب

نشہ یہ دونوں کا اک دن اُتر ہی جانا ہے

Saturday, 17 July 2021

رنگ لائے گا ہماری بے زبانی کا ہنر

رنگ لائے گا ہماری بے زبانی کا ہُنر

عام ہو گا اب یہاں آتش بیانی کا ہنر

اک تبسّم سے جگا دی گُلستاں کی ہر روش

دیکھیے اس رشکِ گُل کی گُل فِشانی کا ہنر

دوستو! یہ تو فریب و مصلحت کا دور ہے

قصۂ پارینہ ہے اب مہربانی کا ہنر