دیوانے ذرا رقص جنوں تیز کیے جا
منطق سے خرد کی ابھی پرہیز کیے جا
میں تیرے معائب کو محاسن ہی کہوں گا
تو ظرف انا کو میرے لبریز کیے جا
خاموش نہ رہ غنچۂ سربستہ کی صورت
لب کھول تو ماحول کو گلریز کیے جا
دیوانے ذرا رقص جنوں تیز کیے جا
منطق سے خرد کی ابھی پرہیز کیے جا
میں تیرے معائب کو محاسن ہی کہوں گا
تو ظرف انا کو میرے لبریز کیے جا
خاموش نہ رہ غنچۂ سربستہ کی صورت
لب کھول تو ماحول کو گلریز کیے جا
خیالِ یار کا روشن جو ہے دِیا نہ بُجھا
رہِ حیات میں اس سے ہی ہے ضیا نہ بجھا
جو پیاس ہی ہے مقدر مِرا، تو پھر ساقی
پیالہ رہنے دے یہ تشنگی بڑھا نہ بجھا
شبِ وصال ہے، دم لے ذرا نمودِ سحر
ٹھہر، ابھی سے ستاروں کا سلسلہ نہ بجھا
سِتم تو کرتا ہے لیکن دُعا بھی دیتا ہے
مِرا حریف مجھے حوصلہ بھی دیتا ہے
ہے جس کا ایک تبسّم قرارِ جاں اپنا
اسی کا طرزِ تغافل رُلا بھی دیتا ہے
بجا کہ ہِجر کا عالم عذاب ہے یارو
مگر یہ عرصۂ فُرقت مزا بھی دیتا ہے
ہمیں تو حرفِ تمنّا زباں پہ لانا ہے
یہ شعر اور یہ غزلیں تو بس بہانا ہے
تمہارے ہاتھ کا پتھر کوئی نیا تو نہیں
جبِیں سے سنگ کا رشتہ بہت پرانا ہے
ہو تیرے حُسن کا جادُو کہ میرا جوشِ طلب
نشہ یہ دونوں کا اک دن اُتر ہی جانا ہے
رنگ لائے گا ہماری بے زبانی کا ہُنر
عام ہو گا اب یہاں آتش بیانی کا ہنر
اک تبسّم سے جگا دی گُلستاں کی ہر روش
دیکھیے اس رشکِ گُل کی گُل فِشانی کا ہنر
دوستو! یہ تو فریب و مصلحت کا دور ہے
قصۂ پارینہ ہے اب مہربانی کا ہنر