Monday, 2 August 2021

ہمیں تو حرف تمنا زباں پہ لانا ہے

ہمیں تو حرفِ تمنّا زباں پہ لانا ہے

یہ شعر اور یہ غزلیں تو بس بہانا ہے

تمہارے ہاتھ کا پتھر کوئی نیا تو نہیں

جبِیں سے سنگ کا رشتہ بہت پرانا ہے

ہو تیرے حُسن کا جادُو کہ میرا جوشِ طلب

نشہ یہ دونوں کا اک دن اُتر ہی جانا ہے

وہ مُشتِ خاک بدن ہو کہ جان کی خُوشبو

ہر ایک چیز کو اک دن بکھر ہی جانا ہے

ہے جذبِ شوق برابر، مگر بہ فیضِ انا

نہ ہم ہی جائیں گے اُن تک نہ اُن کو آنا ہے


سجاد سید

No comments:

Post a Comment