جہاں محبت ہو گی آپ مجھے وہاں پائیں گے
مشروط کچھ بھی نہیں
محبت اللہ سے ہو یا عبداللہ سے ہو
مشروط کچھ بھی نہیں
اپنی اماں سے محبت ملے، تو میں جنتی
اپنے بابا سے مجھ کو محبت ملی، تو میں لاڈلی
جہاں محبت ہو گی آپ مجھے وہاں پائیں گے
مشروط کچھ بھی نہیں
محبت مجھ کو کتابوں سے ہے
ان میں تحریر ہر اک نقطے سے ہے
مجھ کو چاہ ہے اس شعر کی
جس کی بُنت میں کئی پہر کوئی
لکھنے والا بے گانہ رہا
خود سے انجان بن کر کسی نے جو نظم کہی
مجھ کو اس نظم سے محبت ہوئی
جہاں محبت ہو گی، آپ مجھے وہاں پائیں گے
مشروط کچھ بھی نہیں
تم نے ہنس کر پکارا
میں ہنسنے لگی
تم جاتے رہو
میں وہیں رک گئی
کسی انجان کی میں نے کہانی سنی
اس کی محبت کے قصے دہرانے لگی
اور مسکرانے لگی
جہاں محبت ہو گی آپ مجھے وہاں پائیں گے
مشروط کچھ بھی نہیں
کوئی منظر، نظارہ کہ تصویر ہو
کوئی پینٹنگ ہو یا جاگتا کوئی پل
میری آنکھیں محبت سے تکنے لگیں
اور تم کو دعائیں دینے لگیں
جہاں محبت ہو گی آپ مجھے وہاں پائیں گے
مشروط کچھ بھی نہیں
قیمتی ہے محبت کا ہر ایک پل
سو اس قدر تم نہ سوچا کرو
چاہ کی عمر اگر گھٹنے لگی
تو اندر کہیں
کوئی لاٹھی کی ٹِک ٹِک سے مر جائے گا
عظمیٰ طور
No comments:
Post a Comment