Monday, 2 August 2021

تمام ختم ہوئے خوش گمانیوں کے ورق

 تمام ختم ہوئے خوش گمانیوں کے ورق

سراب کھا گئے تیری نشانیوں کے ورق

زماں نہیں تھا وہاں پر مکاں کے آنسو تھے

جہاں سے چنتا رہا میں کہانیوں کے ورق

ایک اور پھول گرا میرے دل کے بنجر میں

مگر بہے نہیں آنکھوں سے پانیوں کے ورق

بکھر گئے تو بکھرنے دو ایک اک کر کے

عمیق تھے ہی نہیں رائیگانیوں کے ورق

تمہارے ہجر سے آئے تھے جو مرے حصے

جلا رہا ہوں انہیں بد گمانیوں کے ورق


وصاف باسط

No comments:

Post a Comment